موجودہ مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران پاکستان کو ملنے والی بیرونی مالی معاونت میں 23.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جولائی اور اگست میں ملک کو مجموعی طور پر ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے بیرونی قرضے حاصل ہوئے۔
اقتصادی امور ڈویژن کی دستاویز کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران پاکستان کو ایک ارب 37 کروڑ ڈالر کی بیرونی مالی معاونت حاصل ہوئی تھی، جبکہ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں حاصل ہونے والی رقم پاکستانی کرنسی میں تقریباً 476 ارب روپے بنتی ہے۔ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ رقم تقریباً 391 ارب روپے تھی۔
دستاویز کے مطابق جولائی تا اگست مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 48 کروڑ 45 لاکھ ڈالر جبکہ نان پراجیکٹ امداد کی مد میں ایک ارب 21 کروڑ ڈالر حاصل کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی اداروں سے پاکستان کو 59 کروڑ ڈالر سے زائد قرض ملا۔ اسلامی ترقیاتی بینک نے 19 کروڑ 12 لاکھ ڈالر جبکہ عالمی بینک نے 23 کروڑ 84 لاکھ ڈالر فراہم کیے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی 9 کروڑ 57 لاکھ ڈالر کی مالی معاونت حاصل ہوئی۔
اقتصادی امور ڈویژن کے مطابق زیر جائزہ مدت کے دوران مختلف ممالک نے پاکستان کو 3 کروڑ 52 لاکھ ڈالر فراہم کیے، جن میں جرمنی کی جانب سے ایک کروڑ 28 لاکھ ڈالر اور سعودی عرب کی جانب سے 89 لاکھ ڈالر شامل ہیں۔ دستاویز کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں چین کی جانب سے پاکستان کو کوئی مالی معاونت فراہم نہیں کی گئی۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کی مد میں 62 کروڑ 97 لاکھ ڈالر حاصل کیے گئے، جبکہ غیر ملکی کمرشل بینکوں سے 30 کروڑ ڈالر کا قرض لیا گیا۔