وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی اور صوبے میں دستیاب وسائل کے استعمال پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ وسائل کا نہیں بلکہ نیت کا ہے، ٹمبر، ٹوبیکو، مائنز اینڈ منرلز اور گولڈ مائننگ کے ٹھیکے کن لوگوں کو دیے گئے؟ کیا صوبائی حکومت ٹیکس کا پیسہ اکٹھا نہیں کر سکتی؟
پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ہسپتالوں میں مطلوبہ سہولیات موجود نہیں، حالانکہ صوبائی حکومت لیڈی ریڈنگ اسپتال سمیت دیگر اداروں کو اپ گریڈ کر سکتی ہے۔ جس دن ان کی نیت ٹھیک ہوگی، کام ہونا شروع ہو جائیں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبے میں ترقی صوبائی حکومت کا مینڈیٹ ہے لیکن ان کی ترجیح ترقی کے بجائے صرف ایک قیدی کی رہائی ہے۔ ان کے پاس اپنی شاہ خرچیوں کے لیے فنڈز موجود ہیں لیکن امن و امان، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں کے لیے فنڈز نہیں ہیں۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وسائل عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہونے چاہئیں۔ صوبے کے قدرتی اور معاشی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن کو تعلیم، صحت، امن و امان اور تعمیر و ترقی پر خرچ کیا جانا چاہیے۔
احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح احکامات موجود ہیں کہ شہریوں کی آمدورفت میں کوئی خلل نہیں ڈالا جائے گا۔ ایک دھرنے سے تاجروں کو 120 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے، اس لیے سیاستدانوں کو اپنے رویوں میں نرمی لانا ہوگی اور اختلاف بھی عزت کے ساتھ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سیاست میں تعمیری تنقید ہونی چاہیے، سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کی غلط ذہن سازی کی گئی، جس کے اثرات معاشرے میں نظر آ رہے ہیں۔
عطاء اللہ تارڑ نے خواتین کے خلاف مقدمات کے حوالے سے کہا کہ ملک میں خواتین پر کیسز بنانے کی روایت ڈالی گئی، ایک بیٹی کو جھوٹے کیس بنا کر اس کے والد کے سامنے گرفتار کیا گیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کو ملک اور عوام کے مفاد کو ترجیح دینی چاہیے اور احتجاج کے بجائے سیاسی معاملات کو بات چیت اور جمہوری طریقوں سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔