نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کے وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر اسلامی ممالک کے متحدہ مؤقف کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے کشمیری عوام کے لیے مسلسل اور اصولی حمایت پر او آئی سی کے سیکریٹری جنرل، رابطہ گروپ کے ارکان، او آئی سی کے خصوصی نمائندے برائے جموں و کشمیر اور او آئی سی کی آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن کا شکریہ ادا کیا۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی اور شہری آزادیوں پر پابندیاں بدستور جاری ہیں جبکہ خطے کے آبادیاتی، سیاسی اور ثقافتی تشخص کو تبدیل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ کوئی بھی ملکی قانون سازی، عدالتی فیصلہ، انتخابی عمل یا آبادیاتی تبدیلی کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا متبادل نہیں بن سکتی۔
اسحاق ڈار نے او آئی سی رکن ممالک پر زور دیا کہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے متحدہ مؤقف برقرار رکھا جائے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔