پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز اور کسٹمز کی ایک مشترکہ چیک پوسٹ کے نزدیک دھماکے اور اس کے بعد زخمیوں اور لاشوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے دوران ایمبولینس پر حملے کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور 35 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز اور کسٹمز کی ایک مشترکہ چیک پوسٹ کے نزدیک دھماکے اور اس کے بعد زخمیوں اور لاشوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے دوران ایمبولینس پر حملے کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور 35 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
سنیچر کا دھماکہ ڈی آئی خان کے علاقے درازندہ میں امن میلہ میں ایک چیک پوسٹ کے نزدیک ہوا جہاں تعمیراتی کام جاری تھا۔
خیال رہے کہ درازندہ کے قریب امن میلہ کے مقام پر ایک مشترکہ چیک پوسٹ ہے جہاں سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ کسٹمز، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور لیویز کے اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔
درازندہ ٹائپ ڈی ہسپتال کے ڈاکٹر وزیر زادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے بعد ان کے پاس 11 لاشیں اور 35 سے زخمی لائے گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ان میں 25 شدید زخمیوں کو ڈیرہ اسماعیل خانکے ڈسٹرکٹ ہسپتال ریفر کر دیا گیا ہے۔
دھماکے کے بعد ریسکیو 1122 کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی درازندہ سٹیشن کی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا۔ بعد ازاں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افسر محمد عارف خان کی ہدایت پر ڈیرہ اسماعیل خان سے مزید چار ایمبولینسز اور اضافی عملہ بھی روانہ کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ دھماکے کی نوعیت اور اسباب کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
آر پی او ڈیرہ اسماعیل خان غلام مبشر میکن کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد میں ایک کسٹمز اہلکار شامل ہے جبکہ دیگر تمام افراد عام شہری ہیں۔
انھوں نے واضح کیا کہ مارے جانے والوں پاکستانی فوج اور پولیس کا کوئی جوان شامل نہیں۔
درازندہ ٹائپ ڈی ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے دفتر سے جاری مراسلے کے مطابق دھماکہ دن دو بج کر 40 منٹ کے قریب ہوا جس کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد میں آٹھ مرد اور دو خواتین کے علاوہ ایک دو سالہ بچی شامل ہے۔
مراسلے کے مطابق مرنے والوں میں ایک ایکسائز انسپکٹر کے علاوہ چیک پوسٹ پر عملے کے اراکین اور ایک ایکسویٹر کا ڈرائیور شامل ہے۔
ڈاکٹر وزیر زادہ نے بتایا کہ دھماکے سے چیک پوسٹ کے قریب مکان کی چھت گر گئی تھی جس کی وجہ سے دو خواتین اور ایک بچی کی ہلاکت ہوئی ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ 25 شدید زخمیوں کو ڈیرہ اسماعیل خانکے ڈسٹرکٹ ہسپتال ریفر کر دیا گیا ہے کیونکہ انھیں سرجری اور آرتھوپیڈک ڈاکٹر کی ضرورت تھی جبکہ ٹائپ ڈی ہسپتال میں سرجن اور آرتھو پیڈک ڈاکٹر کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔
ریسکیو 1122 کی ایمبولینس پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی
درازندہ دھماکے کے بعد ریسکیو 1122 کی ایمبولینس ایک لاش اور زخمی کو ڈیرہ اسماعیل خان لے جا رہی تھی کہ نامعلوم افراد نے اس پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک ریسکیو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔
ڈی پی او ڈیرہ اسماعیل خان ضیاالدین نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ حملہ درابن کے مقام پر کیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ اس حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ ڈی پی او کے مطابق زخمیوں کو ڈیرہ اسماعیل خان پہنچا دیا گیا ہے جبکہ لاش کو بھی ڈیرہ اسماعیل خان لایا جا رہا ہے۔
اس سے قبل ایسی اطلاع سامنے آئی تھی کہ اس حملے میں دو اہلکار ہلاک ہوئے ہیں تاہم پولیس کے مطابق اب تک اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ایمبولینس پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے اس حملے میں دو ریسکیو ورکرز کی ہلاکت کا تذکرہ کیا ہے۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایمبولینس پر فائرنگ کے واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
اس سے قبل بھی ڈیرہ اسماعیل خان میں زخمیوں اور لاشیں لے جانی والی ریسکیو 1122 کی ایمبولینسوں پر حملے ہو چکے ہیں۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق فروری میں کرک کے علاقے بہادر خیل میں ایف سی پوسٹ پر حملے کے بعد زخمی اہلکاروں کو لے جانے والی ریسکیو 1122 کی دو ایمبولینسوں کو راستے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تین ایف سی اہلکار ہلاک جبکہ ریسکیو 1122 کے دو اہلکار زخمی ہوئے۔
ایک ایمبولینس کو حملہ آوروں نے آگ بھی لگا دی۔
اپریل میں باجوڑ کی تحصیل خار کے علاقے رشکئی میں زخمی پولیس اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کرنے والی ریسکیو 1122 ایمبولینس پر بھی فائرنگ کی گئی، جس میں ایمبولینس ڈرائیور سمیت تین افراد زخمی ہوئے تھے۔
’ہر طرف دھواں ہی دھواں تھا‘
درازندہ سے تعلق رکھنے والے سوشل ورکر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما کامل شیرانی نے بتایا ہے کہ دھماکے کی بعد وہ موقع پر پہنچے تو وہاں ’چیک پوسٹ کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھی اور وہاں قریب ایک گڑھا بن گیا تھا۔‘
’ہر طرف دھواں ہی دھواں تھا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں اور لاشوں کو ہسپتال پہنچایا اور اس کے بعد جب ریسکیو 1122 کی گاڑیاں آگئی تو مقامی لوگوں اور ریسکیو اہلکاروں نے انھیں ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیا۔
’دہشتگردی کی نئی لہر میں روزانہ ہمارے پختون بھائی ہلاک ہو رہے ہیں‘
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے دھماکے کو 'بزدلانہ حملہ' قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’یہ پہلا واقعہ نہیں، دہشتگردی کی نئی لہر میں روزانہ ہمارے پختون بھائی ہلاک ہو رہے ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ 22 سال میں 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشنز کے باوجود خیبرپختونخوا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکا۔
سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم مزید جنازے نہیں اٹھا سکتے اور مزید خون بہتا ہوا نہیں دیکھ سکتے، پالیسی میں تبدیلی انتہائی ضروری ہے۔‘
درازندہ کہاں واقع ہے؟
درازندہ کاشمار خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے انتہائی اہم سرحدی علاقوں میں ہوتا ہے۔ یہ علاقہ ڈیرہ اسماعیل خان شہر سے مغرب کی جانب، جنوبی وزیرستان کے قریب واقع ہے اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے درمیان زمینی رابطے کے حوالے سے بھی اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان سے درازندہ لگ بھگ 80 کلومیٹر دور مغرب میں واقع ہے اس کے بعد ضلع شیرانی اور اس سے آگے ضلع ژوب واقع ہے۔
اس راستے سے سمگلنگ کی وجہ سے مختلف اداروں کے اہلکار اس چیک پوسٹ پر تعینات رہتے ہیں۔
درازندہ کا علاقہ پہاڑی اور نسبتاً دشوار گزار جغرافیے پر مشتمل ہے۔ یہاں سے جنوبی وزیرستان کے علاقوں کی طرف جانے والے راستے نکلتے ہیں، جبکہ ایک اہم سڑک ڈیرہ اسماعیل خان کو ژوب اور بلوچستان کی جانب ملانے والے راستے سے جوڑتی ہے۔
اسی وجہ سے درازندہ کو ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی وزیرستان اور بلوچستان کے درمیان ایک اہم رابطہ پوائنٹ سمجھا جاتا ہے۔
سکیورٹی کے اعتبار سے بھی درازندہ کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
یہ علاقہ ماضی میں قبائلی اضلاع اور ڈی آئی خان ڈویژن کے درمیان آمدورفت کے راستوں کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کے لیے اہم رہا ہے۔
جنوبی وزیرستان اور بلوچستان سے ملحقہ جغرافیہ ہونے کے باعث یہاں عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت، سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور سرحدی راستوں کی نگرانی کے حوالے سے یہ علاقہ حساس سمجھا جاتا ہے۔