کیا کسی ایم پی اے کی گرفتاری سپیکر کی اجازت سے مشروط ہونی چاہیے؟ محسن نقوی کی تنقید اور سپیکر بابر سلیم سواتی کے جواب نے پارلیمانی استحقاق اور قانون کی تشریح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے ارکان کی گرفتاری سے قبل سپیکر کی اجازت لازمی قرار دینے کے نوٹیفکیشن نے ایک اہم آئینی، قانونی اور سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر کسی رکنِ اسمبلی پر قتل جیسے سنگین جرم کا الزام ہو تو کیا پولیس اس کی گرفتاری کے لیے بھی سپیکر کی منظوری کی منتظر رہے گی۔
تاہم پارلیمانی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے تحفظات نہ تو کوئی نئی ایجاد ہیں اور نہ ہی خیبر پختونخوا تک محدود، بلکہ یہ پارلیمانی اداروں کی آزادی، منتخب نمائندوں کے تحفظ اور اختیارات کے ممکنہ سیاسی استعمال کی روک تھام کے لیے دنیا بھر کے پارلیمانی نظاموں میں مختلف صورتوں میں موجود رہے ہیں۔
خیال رہے گذشتہ روز خیبر پختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ نے صوبائی اسمبلی کے ارکان کی گرفتاری، حراست یا تحویل میں لینے کے طریقۂ کار سے متعلق انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا کو باضابطہ مراسلہ جاری کیا تھا، جس میں قانون کے تحت مقررہ طریقہ کار پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس نوٹیفکیشن پر تنقید کرتے ہوئے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا میں اب اگر کسی رکنِ صوبائی اسمبلی پر کسی فوجداری جرم کا الزام بھی ہو تو پولیس اس کی گرفتاری سے قبل سپیکر کی اجازت لینے کی پابند ہو گی۔
انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’اگلا قدم کیا ہو گا؟ اگر کوئی رکنِ اسمبلی کسی شخص کو قتل کر دے تو کیا پولیس اس کی گرفتاری کے لیے بھی پہلے سپیکر کی اجازت کا انتظار کرے گی؟‘
محسن نقوی نے مزید کہا کہ یہ ’قانون کے سامنے برابری‘ کے اصول کی ایک غیر معمولی تشریح ہے۔ انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’شاباش، اسی طرح جاری رکھیں۔ کیا یہی ریاستِ مدینہ ہے؟‘
یاد رہے کہ گذشتہ روز جاری کیے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی (اختیارات، استثنیٰ اور مراعات) ایکٹ 2026 کی دفعہ 11 کے مطابق کسی رکنِ صوبائی اسمبلی کو کسی فوجداری الزام یا جرم کے تحت گرفتار کرنے یا انتظامی حکم کے تحت حراست میں لینے سے پہلے سپیکر اسمبلی سے پیشگی اجازت حاصل کرنا ضروری ہو گی۔
مراسلے کے مطابق متعلقہ مجسٹریٹ یا انتظامی اتھارٹی کو گرفتاری یا حراست کی وجوہات تحریری طور پر سپیکر کو فراہم کرنا ہوں گی۔ قانون کے تحت سپیکر اگر اسے عوامی مفاد میں ضروری سمجھیں تو متعلقہ پولیس افسر سے پولیس رپورٹ یا چالان طلب کر سکتے ہیں تاکہ معاملے کے حقائق کا جائزہ لیا جا سکے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سپیکر اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے عدالت میں چالان جمع کرائے جانے سے قبل مزید انکوائری کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔ صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ نے آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی رکنِ صوبائی اسمبلی کی گرفتاری یا حراست کی صورت میں مذکورہ قانونی تقاضوں اور طریقۂ کار پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
’اگر آپ پارلیمانی نظام کا حصہ ہوتے تو جانتے‘
ایک ایسے وقت میں جب تحریک انصاف کا الزام ہے کہ اس کے ڈیڑھ ہزار کارکن، پانچ ارکانِ قومی اسمبلی، ایک سابق سینیٹر اور کئی ارکانِ صوبائی اسمبلی گرفتار کیے جا چکے ہیں، جبکہ عمران خان اور ان کی تینوں بہنیں بھی زیرِ حراست ہیں، یہ پارلیمانی بحث سیاسی سے کہیں زیادہ قانونی اہمیت اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے ایکس پر کہا کہ ’اگر آپ کسی منتخب اور عوام کے نمائندہ پارلیمانی نظام کا حصہ رہے ہوتے (تو جانتے) کسی رکنِ اسمبلی کی گرفتاری سے قبل سپیکر کی اجازت کی شرط کوئی نئی شق نہیں بلکہ پارلیمانی روایات اور موجودہ قوانین کا حصہ ہے۔‘
’فوجداری مقدمات میں کسی رکنِ صوبائی اسمبلی کی گرفتاری سے قبل سپیکر کی پیشگی اجازت سمیت پارلیمانی استحقاقات خیبر پختونخوا کی کوئی نئی اختراع نہیں ہیں۔ ان کا مقصد مقننہ کی آزادی کا تحفظ، انتظامیہ کو پولیس اختیارات کے استعمال کے ذریعے منتخب نمائندوں کو دباؤ میں لانے یا خاموش کرانے سے روکنا، اور اسمبلی کو خوف یا رکاوٹ کے بغیر اپنے فرائض انجام دینے کے قابل بنانا ہے۔‘
ان کے مطابق یہ استحقاق منتخب نمائندوں کو قانون سے بالاتر نہیں بناتا بلکہ انھیں سیاسی انتقام اور انتظامی دباؤ سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
خیبر پختونخوا کے سپیکر نے مزید کہا کہ ’آپ جن استحقاقات پر تنقید کر رہے ہیں، انھی پر آپ اور آپ کے ساتھی بھی مزے لےرہے ہیں۔ آپ میں سے کچھ نے پارلیمنٹ کے ذریعے خود کو استثنیٰ دلا رکھا ہے تاکہ کوئی ان سے سوال نہ کر سکے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا قانون ریاستِ مدینہ میں قابلِ قبول ہے؟‘
’سپیکر کو صرف اطلاع دینا ضروری ہوتا ہے‘
پارلیمانی امور پر گہری نظر رکھنے والے ادارے پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس قانون کے تحت ’حکام متعلقہ سپیکر کو اطلاع دینے کے پابند ہیں مگر سپیکر کی اجازت لینا ضروری نہیں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ تقریباً دنیا بھر کی پارلیمان کی روایت ہے چونکہ سپیکر ہاؤس کا ’کسٹوڈین‘ ہوتا ہے تو اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس ہاؤس کا کون سا رکن گرفتار ہوا ہے۔ ان کے مطابق سپیکر کو یہ اطلاع واٹس ایپ، ای میل، بذریعہ خط یا کسی بھی اور دستیاب ممکنہ طریقے سے دی جا سکتی ہے۔
انتخابات اور پارلیمانی امور کے ماہر سرور باری نے بی بی سی اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’قانون کی نظر میں سب شہری برابر ہیں، تاہم ان کے بقول موجودہ حالات میں اس اصول کو یکساں طور پر نافذ ہوتے نہیں دیکھا جا رہا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’حکومت پر عدالتی فیصلوں کو اپنی مرضی سے تعبیر کرنے اور شہری حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی عائد ہوتے رہے ہیں۔‘
سرور باری کے مطابق ’ایسے سیاسی ماحول میں کسی منتخب رکنِ اسمبلی کے خلاف سنگین نوعیت کا مقدمہ، حتیٰ کہ قتل کا مقدمہ بھی، سیاسی بنیادوں پر درج کیے جانے کے خدشات کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اسی تناظر میں قانون میں سپیکر کو پیشگی اطلاع دینے اور اجازت لینے کی شق کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، تاکہ ’گرفتاری کے عمل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے اور پارلیمانی اداروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔‘

’سر جی یہ انتہائی خوبصورت روایت آپ کی حکومت نے ہی معتارف کرائی تھی‘
سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر قانونی اور سیاسی بحث جاری ہے، جہاں بعض صارفین اسے پارلیمانی استحقاق جبکہ بعض قانون کے یکساں اطلاق کا معاملہ قرار دے رہے ہیں۔
سینیئر سیاسی رہنما جاوید ہاشمی نے ایکس پر اپنے ردِعمل میں کہا کہ ’کسی حاضر سروس پارلیمنٹیرین کو صرف اسی صورت گرفتار کیا جا سکتا ہے جب سپیکر وجوہات کے ساتھ اس کی منظوری دیں۔‘
انھوں نے رول 103 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’سپیکر کی اجازت کے بغیر کسی رکنِ پارلیمان کی گرفتاری نہیں کی جا سکتی۔‘
جاوید ہاشمی کے مطابق ’آئین کے تحت پارلیمنٹیرین کو حکومت کی جانب سے فراہم کردہ رہائش گاہ بھی پارلیمنٹ کے احاطے کا حصہ سمجھی جاتی ہے، لہٰذا ایسے مقام سے بھی کسی رکنِ پارلیمان کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔‘
صحافی مبشر زیدی نے لکھا کہ ’قومی اسمبلی میں بھی یہی طریقۂ کار موجود ہے، پھر اعتراض کس بات پر؟‘
ایک صارف نے لکھا کہ ’نقوی صاحب، اس نوعیت کے معاملات پر ٹویٹ کرنے سے قبل بہتر ہوگا کہ آپ ملک کے آئینی، قانونی اور پارلیمانی قواعد سے متعلق مکمل بریفنگ لے لیا کریں۔‘
سینیئر صحافی رؤف کلاسرا نے محسن نقوی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ’سر جی یہ انتہائی خوبصورت روایت آپ کی وفاقی حکومت نے ہی سب سے پہلے اسلام آباد میں متعارف کرائی تھی کہ کسی ایم این اے کو سپیکر قومی اسمبلی کی اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔‘
ایک صارف مینا جان نے سوال اٹھایا کہ وزیرِ داخلہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر کے احکامات پر اعتراض کر رہے ہیں، حالانکہ 2022 میں پی ڈی ایم حکومت نے قومی اسمبلی میں ایسی ترامیم منظور کرائی تھیں جن کے تحت کسی ایم این اے کی گرفتاری کے لیے سپیکر کی اجازت لازمی تھی۔ ان کا کہنا تھا، اگر کوئی ایم این اے قتل بھی کر دے، تو کیا پھر بھی پولیس کو سپیکر کی اجازت لینی ہوگی؟