خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پولیس وسائل اور انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے اقدامات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، مختلف دستاویزات اور میڈیا رپورٹس میں صوبے میں پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو درپیش وسائل کی کمی کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت اور این ایف سی کے ذریعے خیبر پختونخوا کو تقریباً ایک ہزار ارب روپے ملنے کے باوجود پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں میں مختلف نوعیت کی کمی موجود ہے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا سی ٹی ڈی کے پاس اس وقت صرف 17 بلٹ پروف گاڑیاں اور 25 مستقل اہلکار موجود ہیں، جبکہ قبائلی اضلاع میں پولیس کا کمزور انفراسٹرکچر دھماکا خیز مواد اور کواڈ کاپٹر حملوں سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔
دستاویزات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبے میں پولیس اہلکاروں کی کمی بھی برقرار ہے اور تقریباً 17 ہزار اہلکاروں کی قلت ہے، جبکہ تقریباً 13 ہزار 500 اہلکار سیاسی شخصیات کی سیکیورٹی پر تعینات ہیں۔
رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا سی ٹی ڈی ڈیٹا فارنزک کے لیے پنجاب کی فارنزک لیبارٹری پر انحصار کر رہا ہے، جس سے صوبے کی اپنی فارنزک صلاحیتوں سے متعلق سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
مزید برآں، دستیاب مواد کے مطابق 2026 کے دوران خیبرپختونخوا میں 220 سے زائد سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوچکے ہیں، جس کے بعد صوبائی حکومت کی انسدادِ دہشت گردی اور سیکیورٹی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔