اے آئی کا غلط استعمال انسانیت کے لیے کتنا خطرناک ہوسکتا ہے؟ بل گیٹس نے بتادیا

image

مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ اس کے ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر طاقتور اے آئی ٹیکنالوجی غلط لوگوں کے ہاتھ لگ جائے تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوسکتے ہیں، حتیٰ کہ بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان بھی ممکن ہے۔

این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بل گیٹس نے کہا کہ بدنیتی رکھنے والے عناصر جدید اے آئی ٹولز کو ایسے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں جو ماضی میں دستیاب ٹیکنالوجی یا ہتھیاروں سے کہیں زیادہ نقصان دہ ثابت ہوں۔

انہوں نے امریکی حکومت پر زور دیا کہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ وفاقی سطح پر واضح قوانین اور حفاظتی اصول بھی بنائے جائیں، تاکہ اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کے امکانات کو کم کیا جاسکے۔

اے آئی پہلے ہی طب، تعلیم، کاروبار، تحقیق اور روزمرہ زندگی میں اہم تبدیلیاں لا رہی ہے، لیکن اس کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں نے سکیورٹی سے متعلق نئے سوالات بھی پیدا کیے ہیں۔ خاص طور پر یہ خدشہ موجود ہے کہ جرائم پیشہ گروہ یا دیگر نقصان پہنچانے والے عناصر اس ٹیکنالوجی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

سائبر حملوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے

ماہرین کے مطابق اے آئی سائبر حملوں کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ حملہ آور اس کے ذریعے کمپیوٹر سسٹمز کی کمزوریاں تلاش کرنے، بعض کارروائیوں کو خودکار بنانے اور نقصان دہ مواد تیار کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

اسی طرح جعلی شناخت، فراڈ، فشنگ اور حقیقت سے قریب تر مصنوعی تصاویر یا ویڈیوز تیار کرنا بھی آسان ہوسکتا ہے، جس سے عام افراد کے ساتھ ساتھ اداروں اور اہم انفراسٹرکچر کو بھی نئے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

طبی شعبے میں اے آئی بیماریوں کی تشخیص، نئی ادویات اور ویکسین کی تحقیق جیسے کاموں میں مددگار ثابت ہورہی ہے۔ تاہم ماہرین اس پہلو پر بھی توجہ دلا رہے ہیں کہ یہی صلاحیتیں غلط استعمال کی صورت میں حیاتیاتی سکیورٹی کے لیے مسائل پیدا کرسکتی ہیں۔

اسی وجہ سے اے آئی کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے محفوظ استعمال، سائبر سکیورٹی اور حیاتیاتی تحفظ سے متعلق مضبوط ضوابط پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US