وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی موجودہ قیادت کی نیت اور طبیعت خراب ہے، وہ اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ صوبے میں تحریک انصاف کی قیادت کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی ’’بی ٹیم‘‘ ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام کی قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کی قربانیاں دے چکی ہے، لیکن صرف پی ٹی آئی کو دہشت گرد کچھ نہیں کہتے، ایسا کیوں ہے؟
وفاقی وزیر نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبر پختونخوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں کیوں چل رہی ہیں؟ اور موٹر سائیکلوں پر بھی نمبر پلیٹس موجود نہیں۔
عطاء اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو جان بوجھ کر قانونی دائرے میں نہیں لا رہی اور یہی گاڑیاں دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ساڑھے 12 سال سے زائد عرصہ خیبر پختونخوا میں حکومت کی، لیکن صوبے کے عوام بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے دوسرے صوبوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ صوبائی حکومت نے صحت کے شعبے میں کیا اقدامات کیے؟
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق وزارت داخلہ نے خیبر پختونخوا پولیس کے لیے جدید گاڑیاں فراہم کرنے کی پیشکش کی، تاہم صوبائی حکومت نے یہ گاڑیاں لینے سے انکار کردیا۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت نے خیبر پختونخوا پولیس کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا پختہ عزم ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کیا جائے گا۔