پشاور میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے کے عوام، پولیس اور فوج نے قیامِ امن کے لیے 80 ہزار سے زائد جانی قربانیاں دی ہیں، لیکن گزشتہ 22 سال سے نافذ العمل پالیسی ناکام ہوچکی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ان کی تجویز کردہ پالیسی پر عمل کیا جائے تو وہ 100 دنوں کے اندر امن قائم کر سکتے ہیں، تاہم ان کی بات سننے کے لیے کوئی تیار نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر ایک نئی جامع پالیسی بنانے اور اس پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو سیاست کی بھینٹ چڑھانا غلط ہے اور امن پالیسی میں تبدیلی نہ صرف صوبے بلکہ پورے پاکستان کے مفاد میں ہے۔ اگرچہ صوبائی حکومت اپنی پولیس، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو مؤثر بنانے کے لیے جدید اسلحے سے لیس کر رہی ہے، لیکن پالیسی کی تبدیلی کے بغیر ان اقدامات سے مکمل فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
سہیل آفریدی نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ گورنر راج یا ایمرجنسی جیسی دھمکیوں کے باوجود اپنے نظریے اور موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ایسی کسی بھی کرسی کو مسترد کرتے ہیں جو انہیں ان کے اصولوں سے ہٹا دے۔