کراچی کے علاقے منگھوپیر میں ڈکیتی کے دوران جاں بحق ہونے والے حافظِ قرآن روشم خان کے قتل کے معاملے میں بالآخر انصاف کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے اور مسلسل بیس دن تک شدید کرب اور بے بسی جھیلنے کے بعد مقتول کے والد رویداد خان کے چہرے پر اب اطمینان دیکھا گیا ہے۔
مقتول کے والد رویداد خان نے میڈیا کو بتایا کہ افسوسناک واقعے کے بعد سابق ایس ایچ او کی جانب سے ان کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا گیا اور نہ ہی پولیس کی کارروائی اطمینان بخش تھی۔ والد کا کہنا تھا کہ پولیس کے عدم تعاون کی وجہ سے ان کے پورے خاندان نے بیس دن تک شدید ذہنی اذیت اور تکلیف سہی، جہاں ایک طرف بیٹے کی دردناک جدائی کا غم تھا تو دوسری طرف انصاف کے لیے تھانے کے چکروں کی تھکن۔
تاہم اب پولیس کی جانب سے مجرموں کو حراست میں لیے جانے کے بعد صورتحال میں تبدیلی آئی ہے۔ رویداد خان کا کہنا ہے کہ پولیس کی اس موثر کارروائی نے بالآخر ان کے شہید بیٹے کی روح کو سکون اور لواحقین کو انصاف کی امید دی ہے اور اب پولیس ان مجرموں تک پہنچ چکی ہے جنھوں نے ان کے جوان بیٹے پر گولی چلائی تھی۔
لواحقین کے مطابق اس لرزہ خیز واردات میں جس ملزم نے حافظ روشم خان پر فائرنگ کی تھی اس کی شناخت مقتول کی والدہ نے خود کی ہے۔ والدہ کی طرف سے باضابطہ شناخت اور تصدیق کے بعد اب پورا خاندان قانون کی عملداری پر مطمئن نظر آ رہا ہے۔ منگھوپیر کا یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر پولیس درست سمت میں بروقت کارروائی کرے تو متاثرہ خاندانوں کا سسٹم پر اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔