صرف چند گھنٹے بعد پولیس کے نظام نے ان میں سے ای تصویر نشاندہی کی۔ یہ ایک نوجوان، گوری رنگت والی خاتون کی پینٹنگ تھی، جس نے فیروزی اور سرخ رنگ کا لباس پہن رکھا تھا اور ہاتھ میں جزوی طور پر کھلا ہوا ایک طومار تھامے ہوئے تھی۔
اکتوبر 2024 میں اٹلی کے شہر پارما میں لگنے والے سالانہ نوادرات کے میلے کے دوران پولیس اہلکار مختلف سٹالوں کے درمیان چلتے ہوئے فن پاروں کی تصاویر لے رہے تھے۔ تاہم وہ یہ کام تفریح کی غرض سے نہیں کر رہے تھے بلکہ یہ ان کے تفتیشی کام کا حصہ تھا۔
ایسے میں جب پولیس اہلکار دکانداروں سے مسکراتے ہوئے گفتگو کر رہے تھے میلے میں سجائے چھوٹے چھوٹے کانسی کے مجسموں اور پینٹنگز سمیت متعدد نوادرات کے سٹالز کے درمیان گھوم رہے تھے، اسی وقت ان کی جانب سے لی گئی تصاویر پولیس کے ایک ڈیٹا بیس میں اپ لوڈ کی جا رہی تھیں۔
صرف چند گھنٹے بعد پولیس کے نظام نے ان میں سے ای تصویر نشاندہی کی۔ یہ ایک نوجوان، گوری رنگت والی خاتون کی پینٹنگ تھی، جس نے فیروزی اور سرخ رنگ کا لباس پہن رکھا تھا اور ہاتھ میں جزوی طور پر کھلا ہوا ایک طومار تھامے ہوئے تھی۔
اگلے ہی روز پولیس اہلکاروں نے میلے میں پہنچ کر پینٹنگ کو قبضے میں لے لیا تاکہ ماہرین اس کا دوبارہ جائزہ لے سکیں۔ اٹلی کے محکمہ تحفظِ ثقافتی ورثہ سے وابستہ لیفٹیننٹ کرنل سالواتورے راپیکاوولی کے مطابق، پینٹنگ میں موجود طومار واقعی تفتیش کاروں کے شک میں اضافہ کر رہا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ 'کچھ نہ کچھ تو غلط محسوس ہو رہا تھا۔'
راپیکاوولی کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کی ٹیم کئی دہائیوں سے ملک بھر میں چوری شدہ فن پاروں کا سراغ لگانے کا کام کر رہی تھی، لیکن میلے میں آزمائے جانے والے مصنوعی ذہانت کے نئے اور خاص طور پر تیار کردہ نظام نے ان کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کر دیا تھا۔
ان کے مطابق اس نظام کی مدد سے ٹیم چوری شدہ فن پاروں کی زیادہ تیزی سے نشاندہی کر سکتی تھی اور ایسی باریک تفصیلات بھی دیکھ سکتی ہے جو عام طور پر انسانی آنکھ دیکھ نہیں پاتی۔
راپیکاوولی کہتے ہیں مصنوعی ذہانت پر مبنی سسٹم کے استعمال کے بعد سے چوری یا گمشدہ نوادرات کی برآمدگی میں 'غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔'
نومبر 2023 میں اس مصنوعی ذہانت کے نظام کے متعارف کروائے جانے کے بعد سے ان کی ٹیم 300 سے زائد چوری شدہ پینٹنگز اور مجسمے برآمد کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ 65 ہزار کے قریب نسبتاً چھوٹی اشیا، جن میں سکے، تمغے، خطوط، مخطوطات، مذہبی نوادرات، ڈاک ٹکٹ اور کارڈ شامل ہیں، بھی برآمد کیے جا چکے ہیں۔ ان تمام اشیا کی مجموعی مالیت 203 ملین یورو (170 ملین پاؤنڈ، 226 ملین ڈالر) سے زیادہ ہے۔
اٹلی میں ٹیکنالوجی اور پالیسی کے میدان میں ہونے والی پیش رفت دنیا بھر میں فن پاروں کی چوری کی تحقیقات میں مشین لرننگ کے استعمال کی راہ ہموار کر رہی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے فن پارے چرانے والے گروہوں کے خلاف عالمی سطح پر کارروائی میں انقلابی تبدیلی آئے گی۔
شاید کسی دوسری صورتحال میں ہاتھ میں طومار تھامے خاتون کی تصویر توجہ حاصل نہ کر پاتی، لیکن اے آئی سسٹم کی بدولت تفتیشی ٹیم اس کے متعلق ایک باقاعدہ تحقیقات میں مصروف ہے۔
دس لاکھ سے زیادہ اشیا کا ریکارڈ اور بڑے پیمانے پر برآمدگیاں
1969 سے اطالوی پولیس ملک بھر سے چوری یا لوٹے گئے ثقافتی نوادرات کا ایک ڈیٹا بیس برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس میں ہر قسم کی اشیا شامل ہیں، گرجا گھروں سے چرائی جانے والی دیوقامت آئل پینٹنگز سے لے کر غیر قانونی طور پر کھدائی کے ذریعے حاصل کیے گئے قدیم رومی اور ایٹرسکن تہذیبوں کے نوادرات شامل ہیں۔
یہ دنیا میں اپنی طرز کا سب سے بڑا ڈیٹا بیس ہے اور اس میں مسلسل ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق پولیس اداروں اور کسٹمز حکام کی رپورٹس شامل کی جاتی رہتی ہیں۔ اس ڈیٹا بیس میں دس لاکھ سے زیادہ اشیا کا ریکارڈ موجود ہے۔ تاہم ان میں سے صرف بعض اندراجات کے ساتھ اصل نوادرات کی تصاویر موجود ہیں۔
ماضی میں چوری شدہ فن پاروں کا سراغ لگانے کے لیے اطالوی پولیس باقاعدگی سے میلوں، نوادرات کی دکانوں اور مہنگی آرٹ نیلامیوں کا دورہ کرتی تھی اور وہاں موجود اشیا کا موازنہ اپنے دفاتر میں موجود لاکھوں ریکارڈز سے کرتی تھی۔ ابتدا میں یہ ریکارڈ کاغذی شکل میں تھے، بعد میں انھیں ڈیجیٹل آن لائن ڈیٹا بیس میں منتقل کر دیا گیا۔
اہلکار ایک ایک کر کے آن لائن ذخیرے میں مطابقت تلاش کرتے تھے۔ مثال کے طور پر 'طومار تھامے خاتون کی پینٹنگ' جیسی تفصیلات درج کر کے مطلوبہ ریکارڈ ڈھونڈنے کی کوشش کی جاتی تھی۔
تاہم راپیکاوولی کے مطابق یہ عمل وقت طلب اور غیر مؤثر تھا۔ اگر کوئی چیز افسران کو مشکوک لگ بھی جاتی تو اس بات کا امکان تھا کہ ڈیٹا بیس میں موجود سینکڑوں تصاویر کو کھنگالتے ہوئے شاید افسران اہم تفصیلات نظرانداز کر جائیں۔
مزید یہ کہ اکثر نوادرات کی تصاویر کا معیار بھی بہت خراب ہوتا۔ یہ تصاویر عموماً کئی دہائیوں پہلے، کافی فاصلے سے کسی کے گھر کے اندر لی گئی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر ہوتی تھیں۔
راپیکاوولی آئی ٹی انجینئر ہیں اور وہ 2013 میں اطالوی پولیس کی چوری شدہ فن پاروں کی تحقیقات کرنے والی ٹیم میں شامل ہوئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ 'میں نے خود سے سوال کیا کہ اس مسئلے کا حل ٹیکنالوجی کی مدد سے کیسے نکالا جا سکتا ہے کم از کم بڑے پیمانے پر تلاش اور موازنہ کرنے کے کام کے لیے۔'
2020 میں ان کی ٹیم نے مصنوعی ذہانت پر مبنی الگورتھم تیار کیا جسے سٹولن ورکس آف آرٹ ڈیٹیکشن سسٹم (سواڈز) کا نام دیا گیا۔
راپیکاوولی کہتے ہیں کہ مشین ایک ہی طرح کا کام کرتے کرتے اکتاتی نہیں۔
'اہم بات یہ ہے کہ یہ نظام فن پاروں میں موجود بصری مماثلتوں کو شناخت کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ رنگوں کے شیڈز، خاکوں کی ساخت اور مجموعی خدوخال میں یکسانیت تلاش کر لیتا ہے۔
یہ ان پینٹنگز کے حصوں کی بھی نشاندہی کر سکتا ہے جنھیں کاٹ کر نئی ترتیب دی گئی ہو۔ ایسا اکثر بڑی مذہبی تصویروں کے ساتھ کیا جاتا ہے، جنھیں الگ الگ حصوں میں تقسیم کر کے فروخت کیا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ ان فن پاروں کو بھی پہچان لیتا ہے جن میں چوری کے بعد تبدیلیاں کر دی گئی ہوں۔
راپیکاوولی کے مطابق خواہ اس میں کوئی منطق نظر آئے یا نہ آئے، نظام اسے پہچان لیتا ہے کیونکہ وہ دراصل پورے اور مکمل فن پارے کا حصہ ہوتا ہے۔'
دوسرے الفاظ میں، یہ نظام فن پارے کے اصل اجزا کو دوبارہ جوڑ کر ان کی شناخت کر سکتا ہے، چاہے وہ ان کے مفہوم یا موضوع کو حقیقتاً نہ سمجھتا ہو۔
سینٹ اینییز کی پینٹنگ کا معمہ
چوری شدہ فن پاروں کے ڈیٹا بیس میں 'طومار تھامے خاتون' کی پینٹنگ تلاش کرنے سے راپیکاوولی کے سامنے موجود معاملہ حل نہیں ہو سکتا تھا۔
کی ورڈز کے ذریعے تلاش کرنے پر وہ پینٹنگ سامنے نہیں آتی جو 20 سال قبل چرائی گئی تھی، حالانکہ اس میں بھی وہی گوری رنگت والی خاتون دکھائی دیتی ہے۔ فرق صرف یہ تھا کہ اصل تصویر میں خاتون کے ہاتھ میں طومار نہیں بلکہ ایک سفید بھیڑ کا بچہ اور کھجور کی شاخ تھی۔
مصنوعی ذہانت کے نظام نے طومار کی عدم موجودگی کے باوجود رنگوں، نمونوں اور ترتیب میں مماثلت کو پہچان لیا۔ اسی بنا پر اس نے لاکھوں چوری شدہ نوادرات کے درمیان اس تصویر کو مشتبہ قرار دیا، حالانکہ اسے بدل کر نئی شکل دے دی گئی تھی۔
جب نظام نے وہ اصل تصویر سامنے لائی جس سے اسے مماثلت محسوس ہوئی تھی تو انسانی آنکھ کے لیے بھی دونوں کے درمیان یکسانیت فوراً واضح ہو گئی۔
بعد ازاں مزید تحقیقات سے تصدیق ہوئی کہ سینٹ اینییز کی 17ویں صدی کی ایک تقریباً ایک میٹر بلند پینٹنگ 11 اگست 2004 کی رات نیپلز کے قریب واقع شہر سلومونا کے ایک چھوٹے سے گرجا گھر ورگو پوتینس سے چرائی گئی تھی۔ یہ مقام پارما کے آرٹ میلے سے 500 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے۔
بظاہر بعد میں اس پینٹنگ میں تبدیلیاں کرکے اس کی شناخت چھپانے کی کوشش کی گئی تھی۔ بھیڑ کے بچے کو طومار کی شکل دے دی گئی، جبکہ مقدس ہالہ اور کھجور کی شاخ مٹا دی گئی، تاکہ سینٹ اینییز ایک نوجوان غیر مسیحی خاتون دکھائی دے۔
جوں جوں فن پاروں کی خرید و فروخت روایتی نیلام گھروں سے آن لائن مارکیٹ پر منتقل ہو رہی تھی، راپیکاوولی کی ٹیم کے لیے ای کامرس پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا اور یہاں تک کہ ڈارک ویب پر مسلسل اپ لوڈ ہونے والے نئے مواد کا تعاقب کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔
تاہم اب سواڈز دن رات خودکار طریقے سے کیٹلاگز اور نئی اپ لوڈ ہونے والی تصاویر کو کھنگال سکتا ہے۔ یہ مسلسل انٹرنیٹ سے تصاویر جمع کرتا ہے اور انھیں چوری شدہ فن پاروں کے ڈیٹا بیس میں موجود لاکھوں تصاویر سے ملا کر دیکھتا رہتا ہے۔
مثال کے طور پر 2026 میں اسی سافٹ ویئر کی مدد سے اطالوی شہر تورین میں راپیکاوولی کی ٹیم نے فلیپو پالیزی کی پینٹنگ 'ریپوسو ڈیلا پاستوریلا' (چرواہن کا آرام) برآمد کر لی۔ یہ پینٹنگ جون 1972 میں ایک جدید آرٹ گیلری سے چرائی گئی تھی۔ یہ واردات اتنی سنگین تھی کہ گیلری 30 برس سے زیادہ عرصے تک بند رہی۔
اگرچہ یہ پینٹنگ کئی دہائیوں تک لاپتا رہی اور آرٹ مارکیٹوں اور تجارتی نمائشوں کے پس منظر میں گم ہو چکی تھی، لیکن انٹرنیٹ پر معمول کی نگرانی کے دوران سواڈز نے اسے ایک نیلام گھر کی ویب سائٹ پر فروخت کے لیے پیش کیے جانے کے بعد اسے شناخت کر لیا۔
مددگار، متبادل نہیں
کارینا پوپوویچی فن پاروں کی تصدیق کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والی کمپنی آرٹ ریکگنیشن کی شریک بانی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فن کی چوری کے خلاف مصنوعی ذہانت کوئی جادوئی چھڑی نہیں۔
ان کے مطابق یہ نظام ایک مخصوص سوال کا جواب دیتے ہیں: کیا یہ تصویر کسی ایسی شے سے مطابقت رکھتی ہے جس کے بارے میں چوری ہونے کی رپورٹ درج ہے؟
وہ کہتی ہیں کہ یہ نظام چور کو گرفتار نہیں کر سکتے اور نہ ہی ایسی چیز کی نشاندہی کر سکتے ہیں جس کا ریکارڈ کبھی موجود ہی نہ ہو۔
پوپوویچی کہتی ہیں کہ اب بھی برآمدگی کا عمل تفتیش کاروں اور قانونی تعاون پر منحصر ہے۔ 'میں مصنوعی ذہانت کو صلاحیتوں میں اضافہ کرنے والا ایک ذریعہ قرار دوں گی۔'
ایف بی آئی کے آرٹ کرائم ٹیم کے سابق سربراہ اور مشاورتی ادارے آرگس کلچرل پراپرٹی کنسلٹنٹس کے بانی ٹموتھی کارپنٹر بھی اس سے متفق ہیں۔
ان کے مطابق یہ سافٹ ویئر انسانی تجزیاتی صلاحیت کا متبادل نہیں بن سکتا۔
اول، ابھی بھی اس سسٹم میں کئی تکنیکی مسائل موجود ہیں۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی خراب تصاویر سے بھی چوری شدہ فن پاروں کو پہچاننے میں پہلے سے بہت بہتر ہو چکی ہے، لیکن ناقص تربیتی ڈیٹا اب بھی اس کے لیے ایک مسئلہ ہے۔
اسی طرح تھری ڈی اشیا کی شناخت میں بھی اسے خاصی دشواری پیش آتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر چوری کی رپورٹ میں کسی گلدان کی تصویر سامنے سے لی گئی ہو اور فروخت کے اشتہار میں وہی گلدان پیچھے سے دکھایا گیا ہو تو نظام دونوں کے درمیان مماثلت پہچاننے میں ناکام ہو سکتا ہے۔
راپیکاوولی کی ٹیم اس خامی کو دور کرنے پر کام کر رہی ہے۔
اس کے علاوہ وسیع تر انتظامی مسائل بھی موجود ہیں۔
کارپنٹر کہتے ہیں 'آپ کو ایک بڑی ٹیم درکار ہوتی ہے جو صرف مصنوعی ذہانت سے ملنے والے سراغوں کا پیچھا کرتی پھرے۔' ان کے مطابق زیادہ تر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے یہ ممکن نہیں۔
'اطالوی آرٹ کرائم یونٹ میں تقریباً 300 اہلکار تعینات ہیں، جبکہ ایف بی آئی میں یہ ٹیم اپنے عروج کے زمانے میں بھی صرف 24 افراد پر مشتمل تھی۔'
یہ بھی لازمی نہیں کہ مصنوعی ذہانت اصل فن پارے اور اس کی نقل میں فرق کر پائے۔ دنیا میں ایک ہی فن پارے کی متعدد نقلیں موجود ہو سکتی ہیں، چاہے وہ مجاز ہوں یا غیر مجاز۔
کارپنٹر کے مطابق چونکہ ایسے ڈیٹا بیس میں چوری شدہ فن پارے کو شامل کرنے سے پہلے اس کی اصلیت ثابت کرنا ضروری نہیں ہوتا، اس لیے ممکن ہے کہ درج چوری شدہ شے کسی پینٹنگ کا واحد نمونہ نہ ہو۔
مثال کے طور پر کارپنٹر کہتے ہیں کہ انٹرپول کے ڈیٹا بیس میں اس وقت درج ہے کہ موریلو کی پینٹنگ دی میلون ایٹرز چوری ہو گئی تھی۔
تاہم وہ کہتے ہیں کہ 'اصل پینٹنگ اب بھی جرمنی کے الٹے پیناکوتھیک میوزیم میں آویزاں ہے اور اسے چوری شدہ قرار نہیں دیا گیا۔'
بعد میں انٹرپول نے وضاحت کی کہ ڈیٹا بیس میں درحقیقت اس پینٹنگ کے دوسرے نسخوں کی چوری درج ہے۔ ان میں ایک ایسا نسخہ شامل ہے جو مصور سے منسوب کیا جاتا ہے اور جس کے بارے میں اطلاع ہے کہ اسے 2009 میں روم سے چوری کیا گیا تھا، جبکہ دوسرا ایک شاگرد کی بنائی ہوئی نقل تھی جس پر غلط طور پر موریلو کا نام درج تھا اور 1998 میں بخارسٹ میں اس کی چوری رپورٹ ہوئی تھی۔
بی بی سی کو دیے گئے ایک بیان میں انٹرپول کا کہنا تھا کہ 'موریلو کی مذکورہ پینٹنگ کے معاملے میں ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس کا مستند اصل نسخہ اس وقت میونخ کے الٹے پیناکوتھیک میوزیم میں محفوظ ہے۔ تاہم کسی شاہکار کے متعدد نسخوں کا موجود ہونا معمول کی بات ہے، جن میں فنکار کی زندگی میں تیار کی گئی نقلیں، شاگردوں کے بنائے ہوئے کام یا استادِ فن سے منسوب دیگر تخلیقات شامل ہو سکتی ہیں۔'
جعلی فن پاروں کی روک تھام کے لیے مصنوعی ذہانت کو تربیت دینے پر بھی بہت کام ہو رہا ہے۔ الگورتھمز کسی فن پارے کی نقل، غیر معمولی طور پر کم یا زیادہ قیمت، یا پھر ایسے معمولی فرق کی نشاندہی کر سکتے ہیں جسے بظاہر کسی انسانی آنکھ کے لیے دیکھنا مشکل ہو سکتا ہے مثلاً برش کے نشانات کی ساخت، رنگوں کے باہمی تعلق اور سطحی بناوٹ۔
تاہم فن پاروں کی تصدیق کے لیے ایسے نظام تیار کرنا موجودہ دستیاب ٹیکنالوجی کے ساتھ نسبتاً سست اور پیچیدہ عمل ہے۔ فن پاروں کی اصلیت کی جانچ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر تحقیق کرنے والے انٹلیکچوئل پراپرٹی کے وکیل سٹیون فرینک کے مطابق اس مقصد کے لیے زیادہ تفصیلی تربیت اور پیچیدہ نظام درکار ہوتے ہیں۔
اور ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جن مصنوعی ذہانت کے اوزاروں سے تفتیش کار فائدہ اٹھا رہے ہیں، وہی اوزار جرائم پیشہ افراد کے کام بھی آ سکتے ہیں۔
ٹموتھی کارپنٹر کے مطابق ان ٹیکنالوجیز کی مدد سے تصاویر میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے، فریم تبدیل کیے جا سکتے ہیں، پینٹنگز کے خراب حصوں کی ڈیجیٹل مرمت کی جا سکتی ہے اور یقیناً ملکیت یا ماخذ سے متعلق جعلی دستاویزات بھی تیار کی جا سکتی ہیں۔ حتیٰ کہ ایسی حقیقت سے قریب تر مصنوعی اشیا بھی بنائی جا سکتی ہیں جو حقیقت میں موجود ہی نہ ہوں۔
کارپنٹر کہتے ہیں کہ 'جہاں مصنوعی ذہانت ایک طرف چیزوں کو آسان بنا رہی ہے تو دوسری طرف انھیں مزید مشکل بھی بنا رہی ہے۔'
بین الاقوامی سمگلنگ
راپیکاوولی پہلے ہی ان سب چیزوں کے متعلق سوچ رہے ہیں۔
ان کی ٹیم سافٹ ویئر کو مزید بہتر بنانے کے لیے اسے ان نوادرات کی فہرستوں سے بھی منسلک کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جن کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ مستقبل میں مارکیٹ میں سامنے آ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر یوکرین کے نایاب مخطوطات یا مذہبی شبیہیں، جن کے تنازع کے دوران لوٹے جانے کا خدشہ ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ نظام ایسے فن پاروں کے بارے میں پہلے سے زیادہ چوکس رہے جن کے چوری ہونے کا خدشہ ہے۔
ٹیم 2027 تک ایک بین الاقوامی سطح پر منسلک شناختی نیٹ ورک قائم کرنے پر بھی کام کر رہی ہے کیونکہ اطالوی حکام اکیلے نہیں جو یہ کام کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
ترکی نے بھی اپنا مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام تیار کر رکھا ہے، جس کی مدد سے وہ برطانیہ سے 15ویں صدی کی مشہور چوری شدہ ازنک ٹائلوں سمیت کئی نوادرات واپس حاصل کر چکا ہے۔
فرانسیسی محققین نے بھی آرٹے فیکٹ نامی ایک ایپ تیار کی ہے، جبکہ جرمن ثقافتی اداروں نے کیکو کے نام سے ایک نظام متعارف کروایا ہے۔
امریکہ میں بوسٹن یونیورسٹی کے محققین مشین لرننگ الگورتھمز کے ذریعے ایسے مجسموں کی شناخت کر رہے ہیں جن کے کمبوڈیا سے چوری ہونے کا شبہ ہے۔
دوسری جانب کیلیفورنیا کی سانتا کلارا یونیورسٹی کے محققین نے اے آئی پروویننس اسسٹنٹ تیار کیا ہے، جو نازی دور میں لوٹے گئے فن پاروں کے ریکارڈز کی تلاش اور جانچ میں مدد دیتا ہے۔
اس کے علاوہ انٹرپول کے پاس آئی ڈی آرٹ نامی سافٹ ویئر موجود ہے، جو عالمی سطح پر مختلف ڈیٹا بیسز کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔
اس کی تصویری شناخت کی صلاحیت کی بدولت ہسپانوی پولیس فورس گواردیا سیویل نے نشاۃ ثانیہ کے دور کی دو چوری شدہ میزیں چوری کے 40 سال سے زیادہ عرصہ بعد برآمد کر لیں۔ اس کے لیے 1979 کی دھندلی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر کا جدید تصاویر سے موازنہ کیا گیا تھا۔
اسی نظام کی مدد سے ہسپانوی رومی سلطنت کے دور کے تین سونے کے سکے بھی برآمد کیے گئے، جن کی مالیت دو لاکھ یورو (224,000 ڈالر) تک بتائی جاتی ہے۔
اے آئی سسٹم چوری شدہ فن پاروں کا سراغ لگانے میں کتنا بااثر ہے؟
فرینک کے مطابق مصنوعی ذہانت خواہ کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو، حال ہی میں چوری ہونے والے یا بہت زیادہ شہرت رکھنے والے فن پاروں کی برآمدگی میں اس کی افادیت نسبتاً محدود رہے گی۔
وہ کہتے ہیں کہ 'چور اتنا جانتے ہیں کہ انھیں روایتی ذرائع کے ذریعے فروخت کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔'
ان کے مطابق ایسی بہت سی چوریاں کسی کلیکٹر کے حکم پر کی جاتی ہیں اور چوری شدہ فن پارے غالباً کسی والٹ یا کسی سٹوریج فیسیلٹی میں پہنچ جاتے ہیں۔
درحقیقت نئے مصنوعی ذہانت کے نظام جن فن پاروں کا سراغ لگا رہے ہیں، ان میں زیادہ تر نسبتاً کم معروف اشیا شامل ہیں۔ چور اکثر گرفتار ہونے کے خطرے سے بچنے کے لیے فن پارے کی مالی قدر کم کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں، مثلاً اسے ٹکڑوں میں بانٹ دینا یا اس میں تبدیلیاں کر دینا۔
راپیکاوولی کہتے ہیں کہ انھیں اس بات کی توقع نہیں کہ یہ نظام رواں سال چوری ہونے والے انتونیلو دا میسینا کے فن پارے کو ڈھونڈ سکتا ہے۔
'مجھے اس بات کی بھی توقع نہیں کہ یہ ہمارے سب سے مطلوب فن پاروں میں شامل کاراواجیو کی 'نیٹیویٹی' پینٹنگ کا سراغ لگا لے گا۔'
مثال کے طور پر سینٹ اینییز کی پینٹنگ کی چوری کے معاملے پر باقاعدہ فوجداری مقدمہ چلانے کے لیے کوئی ثبوت موجود نہیں۔
یہ چوری دو دہائیوں سے زیادہ پہلے ہوئی تھی، اس لیے اطالوی قانون کے تحت اس پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔
نیپلز کے نوادرات فروش کے پاس بھی اس پینٹنگ کے ماخذ کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ غالب امکان یہی ہے کہ یہ اسے خاندانی کاروبار کے ذریعے ملی ہو۔
تاہم راپیکاوولی کے مطابق صرف اس وجہ سے کہ یہ کوئی سنسنی خیز یا کروڑوں ڈالر مالیت کی آرٹ چوری کی کہانی نہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ مقامی برادری کے لیے جذباتی اور علاقائی اہمیت نہیں رکھتی۔
20 مئی 2025 کو ان کی ٹیم نے یہ پینٹنگ نیپلز کے قریب واقع چھوٹے سے ورگو پوتینس گرجا گھر کو واپس کر دی، جہاں اس کی مرمت کے بعد اسے دوبارہ اپنی اصل جگہ پر آویزاں کیا جائے گا۔
راپیکاوولی کو یاد ہے کہ مقامی لوگ اس کی واپسی پر بے حد خوش تھے۔