وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف ناکامی کی وجہ سے آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کی صورت میں پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کے ساتھ تعاون کرے گی اور اس اقدام کے لیے اگر کوئی سیاسی نقصان اٹھانا پڑا تو حکومت اس کے لیے بھی تیار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی لہر میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں عام شہری اور امن و امان قائم کرنے والے اہلکار شہید ہو رہے ہیں، جبکہ صوبائی حکومت علاقے میں امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ اگرچہ دہشت گردی کا مسئلہ بلوچستان میں بھی درپیش ہے، لیکن وہاں کے وزیراعلیٰ اس کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خاتمے اور روک تھام کے سلسلے میں وفاقی حکومت کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔