دفتر خارجہ نے پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں، شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی چیئرمین شپ اور صومالیہ کے ساحل پر پاکستانی شہریوں سے متعلق افسوسناک واقعے پر اہم پیش رفت سے آگاہ کردیا۔
ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران 21 سے 25 ستمبر تک نیویارک میں اہم دوطرفہ اور کثیرالجہتی ملاقاتیں کیں، جن کی تفصیلات وہ کل پریس بریفنگ میں بتائیں گے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان کی 2026-27 کے لیے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی چیئرمین شپ کے تحت نیشنل کوآرڈینیٹرز کونسل کا پہلا اجلاس 28 سے 30 ستمبر تک اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس میں پاکستان کی زیرصدارت ایس سی او کی سرگرمیوں، آئندہ اجلاسوں کی تیاری اور رکن ممالک کے درمیان عملی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ ایس سی او وفود نے پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس اور نصیر بندہ ہاکی اسٹیڈیم کا دورہ بھی کیا، جہاں انہیں پاکستان کے ثقافتی ورثے اور 20 نومبر سے 2 دسمبر تک ہونے والے ایس سی او ہاکی ٹورنامنٹ کی تیاریوں سے آگاہ کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق 30 ستمبر کو ایس سی او کے نیشنل کوآرڈینیٹرز نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ کی ترجیحات اور رکن ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔
ترجمان نے صومالیہ کے ساحل پر ہائی جیک کیے گئے بحری جہاز ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے دوران پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر بتایا کہ حادثے میں 5 عملہ ارکان جاں بحق ہوئے، جن میں 3 پاکستانی شہری رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری شامل ہیں۔
ترجمان کے مطابق 4 عملہ ارکان، جن میں 3 پاکستانی شہری شامل ہیں، زخمی ہوئے اور زیرعلاج ہیں۔ زندہ بچ جانے والے عملے کو پہلے بندر بیلا منتقل کیا گیا اور بعد ازاں بحفاظت گاروے پہنچایا گیا۔
دفتر خارجہ نے بتایا کہ حکومت پاکستان صومالی حکام اور دیگر متعلقہ فریقین سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ زخمیوں کو طبی سہولیات، جاں بحق افراد کی میتوں کی وطن واپسی اور پاکستانی عملے کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جاسکے۔
ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ترکیہ اور برطانیہ کے سفیروں سے ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
19 ستمبر کو اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی گفتگو ہوئی، جس میں علاقائی صورتحال، بلا تعطل توانائی کی فراہمی اور بحری جہازوں کی محفوظ و تیز رفتار آمدورفت کی اہمیت پر بات چیت کی گئی۔ اسحاق ڈار نے زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی قابل عمل راستہ ہیں۔
اسی روز نائب وزیراعظم نے ملائیشیا کے وزیر خارجہ داتو سری محمد حسن سے بھی گفتگو کی، جس میں پاکستان ملائیشیا تعلقات اور تجارت و اقتصادی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے 21 ستمبر کو تہران کا دورہ کیا، جہاں ایرانی حکام سے ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور فرانس کے درمیان آٹھویں مشترکہ سکیورٹی کمیشن کا اجلاس 22 ستمبر کو اسلام آباد میں ہوا، جس میں دفاعی و سیکیورٹی تعاون، علاقائی سکیورٹی صورتحال، انسداد دہشت گردی اور بین الاقوامی منظم جرائم کے خلاف تعاون کا جائزہ لیا گیا۔
پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان پانچویں دوطرفہ سیاسی مشاورت کا اجلاس 23 ستمبر کو کوپن ہیگن میں ہوا، جس میں تجارت و سرمایہ کاری، توانائی، گرین ٹرانزیشن، عوامی روابط، قونصلر امور اور کثیرالجہتی معاملات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا گیا۔