فلائی دبئی کی پرواز میں پیش آنے والے سنگین واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر تحقیقات میں تہران کا کوئی کردار ثابت ہوا تو امریکا کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آسکتا ہے۔
دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کے دوران کوپائلٹ پر الزام ہے کہ اس نے کپتان پر حملہ کیا اور طیارے کو خطرے میں ڈال دیا۔ زخمی کپتان کی مزاحمت کے بعد مسافروں اور عملے نے صورتحال پر قابو پایا، جبکہ طیارے کو بعد میں سعودی عرب میں بحفاظت اتار لیا گیا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ حکام واقعے کے ممکنہ ایرانی تعلق کی جانچ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر سامنے آنے والی معلومات اس جانب اشارہ کر سکتی ہیں، تاہم تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئیں۔
جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ اگر ایران کا کردار ثابت ہوجاتا ہے تو امریکا کا ردعمل کیا ہوگا، انہوں نے انتہائی سخت کارروائی کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اس مرحلے پر کوپائلٹ کا ایران یا کسی دوسرے فریق سے تعلق جوڑنا قبل از وقت ہوگا۔
متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور اسرائیل میں واقعے کے محرکات اور کوپائلٹ کے ممکنہ روابط کی تحقیقات جاری ہیں۔ اب تک ایران کے براہِ راست ملوث ہونے کا کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا، جس کے باعث اس واقعے کا ایرانی تعلق فی الحال ایک زیرِ تفتیش امکان ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تیل کی قیمتوں پر بھی بات کی اور ایک بار پھر تہران پر معاہدے کے لیے دباؤ بڑھانے کا عندیہ دیا۔ فلائی دبئی کا واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ شدید ہے۔