حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی نے موجودہ سیاسی صورتحال پر پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات کے لیے مشترکہ وفد تشکیل دے دیا ہے۔ وفد آج پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات کرے گا۔
مشترکہ وفد میں وفاقی حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ اور امیر مقام جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر اور اعجاز جکھرانی شامل ہیں۔
مذاکرات کا فیصلہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے درمیان ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات کے دوران کیا گیا۔ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جبکہ خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق صدر مملکت اور وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف قومی عزم مزید مضبوط بنانے اور ملک میں امن و استحکام کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ملاقات کا پیغام موصول ہوا ہے اور حکومتی و اپوزیشن وفود کے درمیان ملاقات آج دوپہر 12 بجے اسپیکر قومی اسمبلی کے دفتر میں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
بیرسٹر گوہر نے گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کے حوالے سے کہا کہ اگر ایسا اقدام کیا گیا تو ان کے بقول حالات مزید خراب ہوں گے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال قومی اسمبلی سے استعفوں کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔