وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے عالمی بینک کے وفد نے کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگاآبازار کی قیادت میں ملاقات کی، جس میں پاکستان کے ساتھ جاری اقتصادی اصلاحاتی شراکت داری میں پیش رفت اور مختلف شعبوں میں اصلاحات پر عملدرآمد کی ترجیحات کا جائزہ لیا گیا۔
ملاقات میں معاشی نمو، روزگار کے مواقع، مالیاتی انتظام، محصولات میں اضافہ، کیپٹل مارکیٹ کی ترقی، تجارت و سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی اصلاحات سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اصلاحات کو محض پالیسی سازی تک محدود رکھنے کے بجائے ان پر مؤثر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عملی اقدامات کے ذریعے معاشی سرگرمیوں، سرمایہ کاری، روزگار اور کاروباری ماحول میں قابلِ پیمائش بہتری لانا ضروری ہے۔
عالمی بینک کی جانب سے مجوزہ گروتھ اینڈ جابز آپریشن پر بھی بات چیت ہوئی، جس میں سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری، کاروباری و ریگولیٹری رکاوٹوں میں کمی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے مالی سہولتوں اور ایکسپورٹ فنانس کے فروغ سے متعلق اقدامات زیر غور آئے۔
اجلاس میں وزیراعظم کے ایکسس ٹو فنانس اقدام کو مزید مؤثر بنانے، متحدہ دیوالیہ پن فریم ورک، فیکٹرنگ سے متعلق قانون سازی، ایس ایم ای فنانسنگ اور نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ملاقات میں دواسازی و طبی مصنوعات اور زراعت کے شعبوں میں اصلاحات پر بھی گفتگو ہوئی۔ عالمی بینک نے بیجوں کی رجسٹریشن میں بہتری، بعض اجناس کو ڈی ریگولیٹ کرنے اور بین الاقوامی سرٹیفکیشن کے نظام کو مضبوط بنانے سے متعلق تجاویز پیش کیں تاکہ پاکستان کی عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنائی جاسکے۔
اجلاس میں ہنرمندی کے فروغ اور لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگی کے لیے قومی ووکیشنل کوالیفکیشن فریم ورک میں بہتری، پاکستانی ہنرمندوں کی بین الاقوامی سطح پر شناخت اور بیرون ملک روزگار کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے باقاعدہ نظام وضع کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
فریقین نے نیشنل ٹیرف پالیسی پر عملدرآمد اور ٹیرف اصلاحات کے حوالے سے عالمی بینک کی تکنیکی معاونت کا جائزہ لیا، جبکہ آٹو موٹو شعبے اور مستقبل کی ٹیرف اصلاحات سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ اس موقع پر برآمدات، پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری اور عالمی ویلیو چینز میں پاکستان کی شمولیت بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
مالیاتی اور محصولات سے متعلق اصلاحات میں ٹیکس پالیسی کی استعداد بڑھانے، میڈیم ٹرم ریونیو اسٹریٹیجی، ریونیو پالیسی ماڈلنگ، جی ایس ٹی میں ہم آہنگی اور وفاق و صوبوں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ بہتر بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں زرعی آمدن ٹیکس اصلاحات، صوبائی قوانین و قواعد پر عملدرآمد، رجسٹریشن، ٹیکس ریٹرن اور ادائیگی کے ڈیجیٹل نظام کے علاوہ پراپرٹی ٹیکس اصلاحات اور جائیدادوں کی مارکیٹ پر مبنی قدر کے تعین کی جانب پیش رفت پر بھی گفتگو ہوئی۔
کیپٹل مارکیٹ کے حوالے سے عالمی بینک گروپ کی معاونت سے کیپٹل مارکیٹس ڈویلپمنٹ کونسل کے ذریعے اصلاحات کا روڈ میپ تیار کرنے، ملکی کیپٹل مارکیٹ کو وسعت دینے اور سرمایہ کاری و مالی وسائل کے مواقع بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے قرضوں کے انتظام کی صلاحیت اور ملکی بانڈ مارکیٹ کو مضبوط بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔ ملاقات میں مارکیٹ رسک مینجمنٹ کے لیے مالیاتی آلات، ڈومیسٹک بانڈ مارکیٹ کی ترقی اور سرمایہ کاروں سے رابطے کے نظام کو بہتر بنانے سے متعلق امور بھی زیر غور آئے۔
عالمی بینک نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل اور ریٹنگ میں مزید بہتری کے حوالے سے تجزیاتی معاونت پر بھی بریفنگ دی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت مالیاتی و قرضوں کے پائیدار انتظام، بیرونی مالیاتی ذخائر، پائیدار معاشی نمو، ادارہ جاتی مؤثریت اور ساختی اصلاحات سمیت خودمختار ریٹنگ کے تمام عوامل کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
ملاقات میں حکومتی کارکردگی، ریگولیٹری معیار، شفافیت، احتساب اور کاروباری ماحول میں بہتری کے لیے گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات پر عالمی بینک کی تجزیاتی معاونت بھی زیر بحث آئی۔
دونوں جانب سے اقتصادی اصلاحاتی شراکت داری کے تحت تعاون جاری رکھنے، اصلاحات پر مؤثر عملدرآمد، ادارہ جاتی استعداد میں اضافے، نجی شعبے کی قیادت میں معاشی نمو، عوامی وسائل کے بہتر انتظام اور سرمایہ کاری کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
ملاقات میں سیکریٹری خزانہ اور وزارت خزانہ کے سینئر حکام بھی شریک ہوئے، جبکہ عالمی بینک کے وفد میں آپریشنز مینیجر لاسی میلگارڈ، آئی ایف سی کے ڈویژن ڈائریکٹر سائمن اینڈریوز اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔