حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہفتے کی دوپہر سے جاری مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے، جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے آج سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ فریقین کے درمیان انسداد دہشت گردی سمیت بعض اہم نکات پر اتفاق رائے نہ ہوسکا۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں مسودے پر اتفاق نہ ہونے کے بعد دونوں جانب سے ایک دوسرے کو مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا گیا، جس کے بعد مذاکراتی کمیٹیوں کے ارکان اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر سے روانہ ہوگئے۔
حکومتی مذاکراتی وفد کے رکن اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مطلوبہ کردار ادا کرنے کو تیار نہیں، صوبائی حکومت کو اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور کسی بھی قسم کے انتشار سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔
پیپلز پارٹی کی رہنما اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی رکن شیری رحمان نے کہا کہ اپوزیشن کے خدشات سنے گئے اور مذاکرات کے دوران مسودے میں چار مرتبہ تبدیلی کی گئی، تاہم دہشت گردی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق لانگ مارچ سمیت بعض معاملات پر معاہدے کے لیے اتفاق نہیں ہوسکا۔
وفاقی وزیر طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے معاملے پر مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہوسکی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں کرنا چاہتی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ملک کے استحکام کی جنگ ہے اور تمام فریقوں کو اس میں تعاون کرنا چاہیے۔
دوسری جانب اپوزیشن رہنما علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار ہے اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بغیر معاملات حتمی شکل اختیار نہیں کرسکتے، تاہم کئی امور پر بات چیت ہوئی ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ تحریک انصاف کی خواہش تھی کہ مذاکرات کامیاب ہوں، تاہم لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار ہے اور مارچ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ آئینی و سیاسی حق ہے، اسے روکا نہیں جانا چاہیے، تاہم احتجاج کی آڑ میں ایسا کوئی اقدام نہیں ہونا چاہیے جس سے خیبرپختونخوا میں عوامی سطح پر تناؤ پیدا ہو۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی نے بھی آج سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے تمام مطالبات آئین و قانون کے مطابق ہیں اور عوام کو پرامن احتجاج کا آئینی حق حاصل ہے۔
مذاکرات سے قبل وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی، جبکہ حکومتی وفد نے مذاکراتی مسودے پر اعلیٰ سیاسی قیادت اور قانونی ماہرین سے بھی مشاورت کی۔
حکومتی مذاکراتی ٹیم میں محسن نقوی، رانا ثناء اللہ، امیر مقام، طلال چوہدری اور طارق فضل چوہدری شامل تھے، جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی نے مذاکرات میں شرکت کی۔ اپوزیشن کی نمائندگی بیرسٹر گوہر، علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ، عامر ڈوگر اور دیگر رہنماؤں نے کی۔
مذاکرات اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوئے، جہاں فریقین نے سیاسی معاملات اور مجوزہ لانگ مارچ سمیت مختلف امور پر اپنا مؤقف پیش کیا تھا۔