خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے لکی مروت کے گنڈی چوک سے لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کا آغاز کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں حکومت عمران خان کے سیاسی وژن اور پالیسی کے مطابق کام کرے گی۔
گنڈی چوک میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت ہے اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سیاسی راستہ اختیار کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد جانے والی مذاکراتی کمیٹی کا مقصد بھی ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ کو کم کرنا تھا۔
سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ بند کمروں میں فیصلے کرنے والی سوچ ایک مرتبہ پھر خیبرپختونخوا پر ایسی پالیسی نافذ کرنا چاہتی ہے جسے صوبے کے عوام قبول نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ایسی کسی حکمت عملی کا حصہ نہیں بنے گی جس سے پشتون آبادی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔
امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے صوبے میں کسی نئے آپریشن کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے خیبرپختونخوا کو مختلف تجربات کا سامنا کرنا پڑا اور ماضی میں کیے گئے آپریشنز کے باوجود دہشت گردی کا مسئلہ مستقل طور پر حل نہیں ہوسکا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت کے پاس امن کی بحالی کے لیے واضح پالیسی موجود ہے اور اگر وفاق سنجیدگی سے اس پر عمل کرے تو مختصر مدت میں حالات میں نمایاں بہتری آسکتی ہے۔ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اصل توجہ امن کے بجائے تحریک انصاف کو سیاسی طور پر کمزور کرنے پر مرکوز ہے۔
وزیراعلیٰ نے عمران خان کے دورِ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت اختیار کی گئی پالیسیوں کے باعث امن و امان کی صورتحال نسبتاً بہتر تھی، تاہم بعد کے سیاسی حالات میں دہشت گردی نے ایک بار پھر سر اٹھایا۔ انہوں نے کارکنوں اور نوجوانوں سے سیاسی تحریک میں پرامن انداز میں شریک ہونے کی اپیل بھی کی۔
لانگ مارچ کے اگلے مرحلے سے متعلق سہیل آفریدی نے بتایا کہ قافلہ کرک کی جانب بڑھے گا، جس کے بعد کوہاٹ میں پڑاؤ ہوگا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مختلف اضلاع سے مزید کارکن راستے میں مارچ کا حصہ بنیں گے اور صوابی پہنچنے تک شرکا کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ نے اپنے بیان میں اعلان کیا تھا کہ لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ گنڈی چوک لکی مروت سے شروع ہوگا، جس میں ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی و شمالی وزیرستان، بنوں اور لکی مروت سمیت مختلف علاقوں سے کارکن شریک ہوں گے۔
دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کارکنوں کو احتجاج مکمل طور پر پرامن رکھنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد جانے یا نہ جانے کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی اور کارکن اسی فیصلے پر عمل کریں گے۔
علی امین گنڈاپور نے واضح کیا کہ مارچ میں ڈنڈے، پتھراؤ یا کسی بھی قسم کے تصادم کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق جو شخص قانون ہاتھ میں لینے یا حالات خراب کرنے کی کوشش کرے گا، اسے تحریک انصاف کے کارکنوں کا نمائندہ نہیں سمجھا جائے گا۔