وزارتِ بحری امور اور اس کے متعلقہ ادارے ملک کی سی فوڈ ایکسپورٹ میں متوقع اضافہ کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے باعث رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان کی سی فوڈ ایکسپورٹ صرف 12.5 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی ہیں۔
سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سہ ماہی میں مچھلی اور سمندری خوراک کی کل برآمدات 61 ہزار 679 میٹرک ٹن رہیں۔ یہ صورتحال اس لحاظ سے تشویشناک ہے کہ وزارتِ بحری امور نے رواں مالی سال کے لیے سی فوڈ ایکسپورٹ کا مجموعی ہدف ایک ارب ڈالر مقرر کر رکھا ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان نے 57 کروڑ ڈالر کی مچھلی اور سمندری خوراک برآمد کی تھی۔
دوسری جانب وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین مالی سالوں کے دوران پاکستان کی برآمدات کے حجم میں 75 فیصد اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 2025-26 میں ماہی گیری کے شعبے نے ملک کے لیے 568 ملین ڈالر کا زرِ مبادلہ کمایا۔
انہوں نے روسی منڈی کے فعال ہونے کو اس شعبے کی ایک نمایاں کامیابی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت یورپی یونین کی سمندری خوراک کی مارکیٹ تک پاکستان کی رسائی کو مزید بڑھانے کے لیے بھی مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔