اسلام آباد: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف موجودہ صارفین کے لیے وزیراعظم فیول سبسڈی جاری رکھنے پر رضامند ہوگیا ہے، تاہم سبسڈی کا دائرہ کار مزید صارفین تک نہ بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے فیول سبسڈی کو موٹر سائیکلوں، تھری ویلرز اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں تک محدود رکھنے پر زور دیا ہے۔
مذاکرات میں میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز کی تیاری پر بھی کام شروع کردیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے صوبوں کی رضامندی سے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ آٹو پالیسی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کو حاصل ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارت پٹرولیم اور پاور ڈویژن کے حکام سے بھی آئی ایم ایف مشن کے مذاکرات جاری ہیں، جبکہ وزارت خزانہ کے حکام سے مشن کی آج دوبارہ ملاقات متوقع ہے۔ مذاکرات میں گیس کے ٹیرف اسٹرکچر سمیت مختلف امور پر بھی بات چیت ہوگی۔