برف کی گہرائیوں سے کائنات کے راز تلاش کرنے والے سائنس دان، فرانسس ہالزین نے فزکس کا نوبیل انعام اپنے نام کرلیا۔
کائنات کے انتہائی پراسرار ذرات پر برسوں تحقیق کرنے والے امریکی سائنس دان فرانسس ہالزین کو 2026 کا فزکس کا نوبیل انعام دینے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے ان کی نیوٹرینو سے متعلق تحقیق کو طبیعیات کے شعبے میں اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
نوبیل کمیٹی کے مطابق فرانسس ہالزین کو ’’آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری‘‘ کے قیام اور تحقیق میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کے ساتھ خلا کے انتہائی دور دراز ذرائع سے آنے والے بہت زیادہ توانائی رکھنے والے نیوٹرینو دریافت کرنے پر اس اعزاز کے لیے منتخب کیا گیا۔
نیوٹرینو ایسے انتہائی باریک ذرات ہیں جنہیں پکڑنا سائنس دانوں کے لیے آسان نہیں۔ یہ کائنات کے مختلف طاقتور واقعات کے دوران پیدا ہوتے ہیں اور تقریباً بغیر کسی رکاوٹ کے طویل فاصلے طے کرسکتے ہیں۔ انہی ذرات کا سراغ لگا کر ماہرین یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ زمین سے بہت دور خلا میں ہونے والے غیرمعمولی واقعات کے پیچھے کیا عمل جاری ہے۔
فرانسس ہالزین امریکا کی یونیورسٹی آف وسکونسن میڈیسن میں پروفیسر ہیں اور انسٹی ٹیوٹ فار ایلیمنٹری پارٹیکل فزکس سے بھی وابستہ ہیں۔ ان کے کام نے نیوٹرینو کو کائنات کا مشاہدہ کرنے کے ایک نئے ذریعے کے طور پر استعمال کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
اس سال نوبیل انعام کی رقم 12 ملین سویڈش کرون رکھی گئی ہے۔ اگر کسی شعبے میں ایک سے زیادہ افراد فاتح قرار پائیں تو یہ رقم نوبیل کمیٹی کے طے کردہ اصولوں کے مطابق تقسیم کی جاتی ہے۔
نوبیل انعامات کا آغاز سویڈش موجد اور صنعت کار الفریڈ نوبیل کی وصیت کے تحت ہوا تھا اور پہلی مرتبہ 1901 میں یہ اعزازات دیے گئے۔ وقت کے ساتھ یہ سائنس، ادب، امن اور اقتصادیات سمیت مختلف شعبوں میں دنیا کے معتبر ترین اعزازات میں شمار ہونے لگے۔
فزکس کا نوبیل انعام ماضی میں البرٹ آئن اسٹائن، میری کیوری، میکس پلانک اور نیلز بوہر جیسے نامور سائنس دانوں کو بھی مل چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فہرست میں شامل ہونا کسی بھی طبیعیات دان کے لیے غیرمعمولی علمی اعزاز سمجھا جاتا ہے۔
2026 کے نوبیل انعامات کے سلسلے میں فزکس دوسرا اعلان ہے۔ اس سے پہلے طب کے شعبے کے فاتح کا اعلان کیا گیا، جبکہ کیمسٹری سمیت دیگر شعبوں کے نتائج بھی مرحلہ وار سامنے آئیں گے۔
فاتحین کو باضابطہ طور پر 10 دسمبر کو اسٹاک ہوم میں منعقد ہونے والی تقریب میں نوبیل میڈلز پیش کیے جائیں گے۔ امن کا نوبیل انعام روایت کے مطابق سویڈن کے بجائے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں دیا جائے گا۔