صدر مملکت آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو عالمی امن، ترقی اور اقوام متحدہ کی قیادت میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ امتیاز سے نواز دیا۔
ایوانِ صدر میں منعقدہ خصوصی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزرا، ارکان پارلیمنٹ اور سفارتی نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ کسی بھی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو پاکستان کی جانب سے نشانِ امتیاز دیے جانے کا پہلا موقع ہے۔
اس موقع پر صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر سمیت جنوبی ایشیا کے تنازعات کے حل کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان بامعنی مذاکرات پر زور دیا۔
صدر مملکت نے سندھ طاس معاہدے کو پابند بین الاقوامی معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
آصف علی زرداری نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی امن مشنز میں پاکستانی اہلکاروں کی خدمات کو بھی اجاگر کیا۔
صدر نے موسمیاتی تبدیلی کو پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے موسمیاتی موافقت اور مالی معاونت کے لیے مزید اقدامات کا مطالبہ کیا۔
انتونیو گوتریس نے اعزاز دینے پر صدر اور پاکستانی قوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان میں لاکھوں پناہ گزینوں کے لیے پاکستانی عوام کی میزبانی، دہشت گردی کے خلاف ان کی ثابت قدمی اور عالمی سطح پر پاکستان کی خدمات کو قریب سے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حقیقی پاکستان سے واقف ہیں کیونکہ انہوں نے حقیقی پاکستان کو دیکھا ہے۔
تقریب میں اقوام متحدہ کی انڈر سیکریٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو، پاکستان میں قائم مقام اقوام متحدہ ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر پرنیل آئرن سائیڈ، سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور سابق وفاقی وزیر نوید قمر بھی موجود تھے۔