وفاقی محتسب نوید کرم بلوچ نے وفاقی محتسب کے علاقائی دفتر لاہور میں ماہانہ جائزہ اجلاس کے دوران شکایات کے اندراج کے لیے ون ٹائم پاس ورڈ (OTP) نظام کا افتتاح کردیا۔
نئے نظام کا مقصد جعلی اور بدنیتی پر مبنی شکایات کی حوصلہ شکنی کے ساتھ آن لائن شکایات درج کرانے والے شہریوں کے ذاتی ریکارڈ اور ڈیٹا کی رازداری کو یقینی بنانا ہے۔ وفاقی محتسب کے مطابق OTP نظام سے شکایات کے عمل میں شفافیت اور کارکردگی مزید بہتر ہوگی جبکہ شکایت کنندگان کے ڈیٹا کا تحفظ بھی مؤثر انداز میں یقینی بنایا جاسکے گا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ جنوری سے ستمبر 2026 تک وفاقی محتسب کو مجموعی طور پر 2 لاکھ 16 ہزار 719 مقدمات موصول ہوئے، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 1 لاکھ 92 ہزار 755 مقدمات موصول ہوئے تھے۔ یوں مقدمات کی تعداد میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 30 ستمبر 2026 تک مجموعی طور پر 2 لاکھ 2 ہزار 415 مقدمات نمٹائے جاچکے ہیں، جبکہ جنوری تا ستمبر مقدمات نمٹانے کی شرح 83.7 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 4 فیصد زیادہ ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کل رجسٹرڈ شکایات میں آن لائن شکایات کا حصہ 54 فیصد رہا، جو شہریوں کی جانب سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔
وفاقی محتسب کے فیصلوں کے خلاف صدرِ مملکت کو دائر کی جانے والی نمائندگیوں کی شرح بھی انتہائی کم رہی، جو 2026 میں 0.28 فیصد جبکہ 2025 میں 0.27 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ نظرثانی شدہ اور توسیع شدہ IRD پروگرام کے تحت گزشتہ سال کے مقابلے میں شکایات کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی محتسب کا دفتر بیرونِ ملک پاکستانی مشنز کے ساتھ بھی رابطے میں ہے تاکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جاسکیں۔
وفاقی محتسب نے اس موقع پر اس امر پر زور دیا کہ شکایات کے ازالے کے نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور شہری دوست بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔