وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مین لائن ون (ایم ایل ون) کی اپ گریڈیشن پر تیزی سے کام کرنے اور پاکستان ریلوے میں کارپوریٹ طرز پر اصلاحات لانے کی ہدایت کردی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلوے میں اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس اسلام آباد میں ہوا، جس میں ریلوے کی ترقی، ایم ایل ون منصوبے اور ریلوے کی ملکیتی اراضی کو کمرشل بنیادوں پر بروئے کار لانے کے امور کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے پاکستان ریلوے کی قبضہ شدہ زمینوں کی نشاندہی اور واگزاری کے لیے چیئرمین نیب کی سربراہی میں نیب اور وزارت ریلوے کی ٹیموں کی کاوشوں کو سراہا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ریلوے کی ترقی، مسافروں کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی اور فریٹ ٹرانسپورٹ میں اضافے کے لیے مین لائن ون کی جدت کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ریلوے کی اربوں روپے مالیت کی نشاندہی شدہ اراضی کو بروئے کار لاتے ہوئے کمرشل بنیادوں پر ایم ایل ون کی تعمیر عمل میں لائی جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ریلوے کی املاک میں موجود حقیقی تجارتی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے قیمتی اراضی کو مؤثر انداز میں کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرکے ملکی معیشت اور ریلوے کی ترقی میں کردار ادا کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ریلوے کو مضبوط اور معاشی طور پر خود کفیل بنانے کے لیے کارپوریٹ طرز کی اصلاحات حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ ریلوے کو منافع بخش بنانے اور اس کے آپریشنز کو بہتر بنانے کے لیے وزیر ریلوے بھرپور محنت کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نے ریلوے کی اراضی پر مختلف کمرشل منصوبوں کے ذریعے بینکوں سے فنڈنگ حاصل کرکے ایم ایل ون کی تعمیر کے لیے استعمال کرنے کی منظوری بھی دی۔ انہوں نے ریلوے کی اراضی کی حقیقی تجارتی استعداد کو سامنے رکھتے ہوئے آئندہ دو ہفتوں میں جامع منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ 1726 کلومیٹر طویل ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کو چار بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں کراچی، روہڑی، ملتان، لاہور اور پشاور کے سیکشنز شامل ہیں۔ کراچی، روہڑی سیکشن کی اپ گریڈیشن کے لیے بین الاقوامی فنانسنگ سے استفادہ کیا جا رہا ہے جبکہ ایم ایل ون کے دیگر سیکشنز کے لیے مقامی وسائل سے فنڈنگ کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
اجلاس میں ایم ایل ون منصوبے کی تعمیر کے مختلف مراحل، کراچی، روہڑی سیکشن پر پیش رفت اور ریلوے کی ملکیتی اراضی کے حوالے سے وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ریلوے کی واگزار کرائی گئی اراضی کو کمرشل بنیادوں پر بروئے کار لانے اور ایم ایل ون کی تعمیر کے لیے بینکوں کی فنڈنگ حاصل کرنے کے حوالے سے جامع لائحہ عمل دو ہفتوں میں پیش کیا جائے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، حنیف عباسی، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چیئرمین نیب لیفٹینینٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔