اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے 10 اگست کو ہونے والے طبی معائنے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چار رکنی میڈیکل بورڈ نے ان میں نمایاں ذہنی دباؤ اور بے چینی نوٹ کرتے ہوئے انزائٹی کی سطح کو "تھری پلس" درج کیا تھا۔
طبی ٹیم میں ڈاکٹر فرقاد عالمگیر، ڈاکٹر عارف خان، ڈاکٹر اختر علی بندیشہ اور ڈاکٹر علی عارف شامل تھے۔ ڈاکٹر فرقاد عالمگیر کو لندن سے بلایا گیا تھا اور رپورٹس کے مطابق انہوں نے عمران خان کی بلڈ پریشر کی دوا میں بھی تبدیلی کی تھی۔
معائنے کے دوران عمران خان کا بلڈ پریشر 140/80 جبکہ نبض 54 فی منٹ ریکارڈ کی گئی۔ ان کی ای سی جی نارمل بتائی گئی جبکہ دل کے والوز اور چیمبرز بھی معمول کے مطابق پائے گئے۔
میڈیکل بورڈ نے بلڈ پریشر اور ذہنی دباؤ کو قابو میں رکھنے کے لیے روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ چہل قدمی اور کچھ وقت آرام کے لیے مختص کرنے کی سفارش کی۔ اس کے علاوہ خاندان سے رابطہ بڑھانے، اخبارات، ٹیلی ویژن اور کتابوں تک رسائی دینے اور اہلیہ سے ملاقاتوں میں اضافے کی تجویز بھی دی گئی۔
رپورٹ میں درج "انزائٹی تھری پلس" نے خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ سادہ الفاظ میں یہ اصطلاح معائنے کے وقت نمایاں یا شدید بے چینی کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم صرف اس اصطلاح کی بنیاد پر کسی مخصوص نفسیاتی بیماری یا "پینک لیول" کی تشخیص کرنا درست نہیں۔ انزائٹی کی باقاعدہ تشخیص مریض کی علامات، طبی تاریخ اور مستند نفسیاتی جائزے کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہے۔
سامنے آنے والی رپورٹ ایسے وقت میں زیر بحث آئی ہے جب عمران خان کو جیل میں طبی سہولیات اور ماہر ڈاکٹروں تک رسائی کا معاملہ پہلے ہی سیاسی اور قانونی سطح پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
طبی رپورٹ میں ایک گھنٹے کی واک، خاندان سے زیادہ رابطے اور مطالعے و ٹی وی تک رسائی کی سفارش کی تصدیق متعدد حالیہ رپورٹس میں بھی ہوئی ہے۔