پنجاب میں پرائیویٹ گاڑیوں کے مالکان کے لیے فٹنس ٹیسٹنگ کی ڈیڈلائن سر پر آگئی، تاہم صوبے میں فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے مراکز کی تعداد کم ہونے کے باعث گاڑی مالکان کو مشکلات کا سامنا ہے۔
حکام کے مطابق پنجاب میں پرائیویٹ گاڑیوں کی فٹنس ٹیسٹنگ کے لیے 15 اکتوبر تک کی ڈیڈلائن مقرر کی گئی ہے، جبکہ مقررہ تاریخ تک فٹنس ٹیسٹ نہ کرانے والی گاڑی کو 15 اکتوبر کے بعد 2 ہزار روپے جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پنجاب بھر میں تقریباً 23 لاکھ گاڑیاں موجود ہیں، تاہم ان کی فٹنس ٹیسٹنگ کے لیے صرف 20 پی وِکس سینٹرز فعال ہیں۔ لاہور میں 14 جبکہ صوبے کے دیگر اضلاع میں صرف 6 فٹنس ٹیسٹنگ مراکز کام کر رہے ہیں۔
ڈیڈلائن قریب آنے کے باعث لاہور کے پی وِکس سینٹرز پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں اور گاڑی مالکان کو فٹنس ٹیسٹنگ کے لیے انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
گاڑی مالکان نے مطالبہ کیا ہے کہ فٹنس ٹیسٹنگ مراکز کی تعداد میں فوری اضافہ کیا جائے تاکہ مقررہ ڈیڈلائن سے قبل زیادہ سے زیادہ گاڑیوں کی فٹنس مکمل کی جاسکے اور شہریوں کو جرمانوں اور غیر ضروری مشکلات سے بچایا جا سکے۔