سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) انسانیت کی بقا کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔ عام طور پر انسانیت کے خاتمے کا ذکر آتے ہی ایٹمی جنگ، مہلک وائرس یا قاتل روبوٹس جیسے تصورات ذہن میں آتے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق حقیقی خطرہ اس سے کہیں زیادہ خاموش اور پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
شیفیلڈ ہالام یونیورسٹی کے روبوٹکس اور اے آئی کے ماہر ڈاکٹر سیموئیل ونانزی اور دیگر ماہرین کے مطابق سب سے بڑا خطرہ یہ نہیں کہ مشینیں انسانوں کے خلاف کوئی اچانک جنگ چھیڑ دیں گی، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان تدریجی طور پر اپنی سوچنے، سمجھنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت سے دستبردار ہو کر اسے اے آئی کے سپرد کرتا چلا جائے گا۔ انسان تحریر، تحقیق، کوڈنگ، فیصلوں اور معلومات کے تجزیے جیسے چھوٹے چھوٹے کام مشین کے حوالے کرنے کا عادی ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے خود سوچنے کے بجائے مشین سے تیار شدہ جواب حاصل کرنا زیادہ آسان محسوس ہونے لگا ہے۔
ماہرین کے مطابق مسلسل اے آئی پر انحصار انسان کی تنقیدی سوچ، منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو بتدریج کمزور کر رہا ہے۔ جب انسان اہم ترین فیصلوں میں بھی اپنی رائے کے بجائے اے آئی کو زیادہ قابلِ اعتماد سمجھنے لگے گا تو اس کے نتائج انتہائی بھیانک ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب اوپن اے آئی کے سربراہ سام آلٹمین کا کہنا ہے کہ اے آئی کے بے شمار فوائد سے مستفید ہونے کے لیے انسانوں کو کچھ نقصانات اور خطرات بھی برداشت کرنا ہوں گے۔