وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 21ویں قومی یومِ استقامت (2026) کے موقع پر اپنے پیغام میں 8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور مربوط ادارہ جاتی تعاون کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو ملکی ترقیاتی ترجیحات میں مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ نہایت کم ہونے کے باوجود یہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیلاب، زلزلے، لینڈ سلائیڈنگ، جنگلات کی آگ، وبائیں اور اسموگ جیسے چیلنجز نہ صرف قوم کے حوصلے کا امتحان ہیں بلکہ محدود معاشی وسائل پر بھی بھاری بوجھ ڈالتے ہیں۔ تاہم بارہا آفات کا سامنا کرنے کے باوجود پاکستانی قوم نے ہمیشہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے اور حکومت گزشتہ تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل میں کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومتوں، سرکاری اداروں، نجی شعبے، سول سوسائٹی، مسلح افواج اور امدادی تنظیموں کے باہمی تعاون کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ حکومت نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ذریعے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی، جغرافیائی اعداد و شمار اور سائنسی ڈیٹا پر مبنی تجزیاتی نظام متعارف کرا رہی ہے تاکہ مؤثر پیشگی انتباہی نظام قائم کیا جاسکے۔
وزیراعظم کے مطابق حکومت کی اولین ترجیح خطرات کو آفت میں تبدیل ہونے سے پہلے ہی پرکھنا، انسانی جانوں اور روزگار کا تحفظ کرنا، اور بحالی و تعمیر نو کے عمل کو پائیدار بنانا ہے، جس کے لیے بنیادی ڈھانچے، زراعت، پانی و غذائی تحفظ اور شہری منصوبہ بندی میں موسمیاتی موافقت کو شامل کیا جا رہا ہے۔