سپریم کورٹ کا خلع اور تنسیخِ نکاح سے متعلق اہم اور تاریخی فیصلہ جاری

image

سپریم کورٹ نے خلع اور تنسیخِ نکاح سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بیوی کی واضح اور آزادانہ رضامندی کے بغیر خلع نہیں دی جاسکتی، جبکہ تنسیخِ نکاح کی درخواست کو خاتون کی رضامندی کے بغیر خلع میں تبدیل کرنا بھی غیر قانونی ہے۔

جسٹس شاہد وحید نے 15 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر خاتون کی جانب سے ظلم و زیادتی ثابت نہ ہو تو عدالت ازخود اس کی طرف سے خلع کا انتخاب نہیں کرسکتی۔ خلع اور قانون کے تحت تنسیخِ نکاح دو الگ قانونی راستے ہیں اور دونوں کے مالی نتائج بھی مختلف ہیں۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ خلع کی بنیاد پر خاتون کو حقِ مہر سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں دو خواتین کے نکاح خلع کے بجائے شقاق کی بنیاد پر ختم کیے گئے تھے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ سنگین اور مسلسل ازدواجی اختلاف، مصالحت کی کوششیں ناکام ہونے کی صورت میں شقاق کی بنیاد بن سکتا ہے۔ شقاق مسلم قانون میں تسلیم شدہ بنیاد ہے اور قانون کی دفعہ 2(ix) کے تحت نکاح ختم کیا جاسکتا ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ معمولی جھگڑے، مزاج کا اختلاف یا عارضی علیحدگی شقاق ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں، بلکہ عدالت کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ازدواجی اختلاف حقیقی، سنگین اور مسلسل نوعیت کا ہے۔ نکاح ختم کرنے سے قبل بامعنی عدالتی کوشش کے باوجود مصالحت کا ناکام ہونا بھی ضروری ہے۔

سپریم کورٹ کے مطابق شقاق کی بنیاد پر تنسیخِ نکاح خاتون کے حقِ مہر سے دستبرداری سے مشروط نہیں کی جاسکتی۔ عدالت نے خلع کی بنیاد پر حقِ مہر واپس کرنے یا چھوڑنے سے متعلق دی گئی ہدایات بھی کالعدم قرار دے دیں، تاہم دونوں مقدمات میں نان و نفقہ اور جہیز کے سامان سے متعلق فیصلے برقرار رکھے گئے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ظلم ثابت کیے بغیر شوہر کو ظالم قرار دینا بھی درست نہیں۔ خاندانی مقدمات میں عدالتوں کو دونوں فریقین کے قانونی حقوق، عزت اور وقار کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US