خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے مستقبل کے حوالے سے ایک بار پھر سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں سامنے آنے لگی ہیں۔
بعض سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومتی وفد کی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات اور مختلف سیاسی جماعتوں و رہنماؤں کے درمیان جاری رابطوں کے باعث صوبائی حکومت کے معاملے پر کسی ممکنہ سیاسی حل کے لیے درمیانی راستہ تلاش کیے جانے کا تاثر پیدا ہوا ہے۔
سیاسی حلقوں کے مطابق موجودہ صورتحال میں بعض بنیادی معاملات حکومت اور سیاسی قوتوں کے درمیان اختلاف کی بڑی وجہ بنے ہوئے ہیں۔ ان حلقوں کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی موجودہ حکومت دہشت گردی کے خلاف ریاستی اقدامات کے حوالے سے وفاقی حکومت اور ریاستی اداروں کے مؤقف سے ہم آہنگ نہیں۔
ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت سے منسوب بعض بیانات اور سیاسی مؤقف دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کے بارے میں تحفظات کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ حکومت مخالف حلقے اسے ٹی ٹی پی اور فتنۃ الخوارج کے بیانیے سے مماثل قرار دیتے ہیں۔
سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے فوجی کارروائیوں اور دہشت گردی کے خلاف آپریشنز پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، جبکہ دہشت گرد حملوں کی مذمت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔
تاہم ان تمام دعوؤں اور سیاسی قیاس آرائیوں کے باوجود خیبر پختونخوا حکومت کے خاتمے یا کسی متبادل سیاسی انتظام کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ فیصلہ یا اعلان سامنے نہیں آیا۔
ذرائع کے مطابق مختلف سیاسی رہنماؤں کے درمیان رابطوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں آئندہ دنوں میں صوبے کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے مزید پیش رفت سامنے آنے کا امکان ہے۔