وزیراعظم کی بینکوں کو ہاؤسنگ، ایس ایم ایز اور زرعی قرضوں کی فراہمی تیز کرنے کی ہدایت

image

وزیراعظم شہباز شریف نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ ہاؤسنگ، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں اور زرعی شعبے کے لیے قرضوں کی منظوری اور رقوم کی ادائیگی کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری، کاروباری افراد اور کسان ان سہولیات سے مستفید ہوسکیں۔

وزیراعظم نے یہ ہدایات اسلام آباد میں ملک کے بڑے کمرشل بینکوں کے صدور اور چیف ایگزیکٹو افسران کے وفد سے ملاقات کے دوران دیں۔ انہوں نے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) اور زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی کے لیے بینکوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے بینکاری شعبے کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، ان کی ترقی سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ان اقدامات کا مقصد عام شہریوں، کاروباری افراد اور کسانوں کو مالی وسائل تک رسائی فراہم کرنا ہے۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت اب تک 426 ارب روپے کے قرضے منظور کیے جاچکے ہیں، جن میں سے 76 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔ مالی سال 2026-27 کے دوران ایک لاکھ 25 ہزار رہائشی یونٹس کی تعمیر اور فراہمی کے لیے 700 ارب روپے کی فنانسنگ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے منظور شدہ قرضوں اور جاری کردہ رقوم کے درمیان فرق کم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو حقیقی فائدہ اسی وقت پہنچے گا جب منظور شدہ رقم بروقت فراہم کی جائے گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈیولپرز کی قرضوں تک رسائی کے لیے فریم ورک پر مشاورت جاری ہے۔

ایس ایم ایز کے شعبے میں پیش رفت سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار 862 کاروباری افراد کو مجموعی طور پر ایک ہزار 137 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جاچکے ہیں۔ جون 2027 تک قرضوں کا حجم ایک ہزار 500 ارب روپے اور مستفید ہونے والے کاروباری افراد کی تعداد 5 لاکھ 65 ہزار تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

زرعی شعبے کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ ستمبر 2026 کے اختتام تک زرعی قرضوں کا مجموعی حجم ایک ہزار 352 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ 34 لاکھ 55 ہزار 313 افراد اس سہولت سے مستفید ہورہے ہیں۔ جون 2027 تک زرعی قرضوں کا حجم ایک ہزار 500 ارب روپے اور قرضوں سے فائدہ اٹھانے والے کسانوں کی تعداد 45 لاکھ تک پہنچانے کا ہدف ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ زرعی قرضوں کی فراہمی کسانوں کی معاشی بہتری، پیداوار میں اضافے اور غذائی تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے چھوٹے کسانوں تک مالی وسائل کی رسائی کو ترجیح دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جدید زرعی طریقے اپنانے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زرعی فنانسنگ کے ذریعے چھوٹے کسانوں تک رسائی بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور ملک کا بڑا بینک وہی ہے جو چھوٹے کسان کا بھی بینک ہو۔

وزیراعظم نے اسٹیٹ بینک پر بھی زور دیا کہ قرضوں کے حصول میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور زیادہ سے زیادہ شہریوں کو مستفید کرنے کے لیے قرضوں کی منظوری اور ادائیگی کے طریقہ کار کو مزید آسان بنایا جائے۔

ملاقات کے دوران بینکوں کے وفد نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم کی قیادت میں معاشی استحکام اور معیشت کی سمت بہتر بنانے کی کوششوں کو سراہا۔ وفد نے ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، ریاض حسین پیرزادہ اور عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، نیشنل بینک، یونائیٹڈ بینک، حبیب بینک، میزان بینک، بینک الفلاح، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ، بینک آف پنجاب، بینک اسلامی اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کے صدور و چیف ایگزیکٹو افسران سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US