خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر وفاق کا بڑا فیصلہ، گورنر کی سربراہی میں 11 رکنی ایڈوائزری کونسل قائم

image

وفاقی وزرا کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت سنجیدہ نہیں، مذاکرات کی آخری حد تک کوشش کی گئی، تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے مثبت ردعمل نہیں ملا۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ صوبے میں ہر صورت امن و امان یقینی بنایا جائے گا اور جتھوں کو منتشر ہونے کا پیغام دے دیا ہے، بصورت دیگر سخت کارروائی کی جائے گی۔

وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، محسن نقوی، عطا اللہ تارڑ، طلال چوہدری اور رکن قومی اسمبلی ثمر ہارون بلور نے پریس بریفنگ کے دوران خیبرپختونخوا کی صورتحال، دہشتگردی کے خلاف اقدامات اور وفاقی حکومت کے فیصلوں سے متعلق تفصیلات بتائیں۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ آج کا دن مشکل ترین دن تھا۔ وفاقی حکومت نے کوشش کی کہ خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ معاملات طے پا جائیں اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تمام فریق متحد ہو جائیں۔ لانگ مارچ کی تاریخ کے اعلان سے پہلے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے تھے، جبکہ وزیراعظم کی نیویارک روانگی سے قبل دھرنا مؤخر کرنے کے لیے ملاقاتیں بھی طے تھیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات میں دہشتگردی کے خلاف جنگ پر بات ہوئی۔ ڈرافٹ میں چار مرتبہ تبدیلی کے باوجود اپوزیشن مذاکرات سے پیچھے ہٹ گئی اور کل رات تک پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطے جاری رہے۔ انہوں نے کہا کہ آخری حد تک کوشش کی گئی کہ بات چیت کے ذریعے معاملات طے پا جائیں۔

محسن نقوی کے مطابق خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں حالات انتہائی خراب ہیں اور ان علاقوں میں تقریباً ہر روز شہادتیں ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی اور صوبائی حکومت کو ہر قسم کی مدد کی یقین دہانی بھی کرائی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کی مشترکہ خارجہ پالیسی ہوتی ہے اور کسی صوبے کو اپنی الگ خارجہ پالیسی اپنانے کی اجازت نہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ سکیورٹی فورسز قربانیاں دیتی رہیں اور صوبائی حکومت دہشتگردوں کی مذمت بھی نہ کرے۔ ان کے بقول طالبان کے ساتھ خیبرپختونخوا حکومت کے رابطے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ہر صورت امن و امان یقینی بنایا جائے گا۔ جتھوں کو منتشر ہونے کا پیغام دیا گیا ہے، بصورت دیگر ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ محسن نقوی نے افغان حکومت اور پی ٹی آئی حکومت کی دہشتگردی سے متعلق سوچ میں مماثلت کا دعویٰ بھی کیا۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کابینہ کے طویل اجلاس میں مختلف محکموں نے اپنی رپورٹس پیش کیں اور وفاقی حکومت نے آئین پاکستان 1973 کے مطابق فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق مذاکرات کی ایک اور کوشش بھی کی گئی، لیکن پی ٹی آئی نے مثبت ردعمل نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے دوران بھی پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک بار پھر کوشش کی گئی۔

اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے مطابق ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق اقدام کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت گورنرز کو صوبائی حکومت کے اختیارات استعمال کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کے معاملات کی نگرانی کے لیے وفاقی حکومت نے ایک سیکریٹریٹ قائم کیا ہے۔

وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ نہیں اور خیبرپختونخوا کے انتظامی حالات تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ صوبائی حکومت کے دہشتگردوں کے ساتھ گہرے روابط ہیں اور معاملات پاور شیئرنگ تک پہنچ چکے تھے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو شہداء کے خاندانوں سے سبق سیکھنا چاہیے تھا۔ انہوں نے طالبان کو بیرونی طاقتوں سے فنڈنگ حاصل کرنے والے عناصر قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔

پریس بریفنگ میں خیبرپختونخوا کے لیے گورنر کی سربراہی میں 11 رکنی ایڈوائزری کونسل کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا، جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات شامل ہوں گی۔

اعلان کے مطابق کفایت اللہ خان مشیر داخلہ، طارق محمود پاشا مشیر خزانہ، عامر جاوید مشیر قانون، ڈاکٹر سید عامر عبداللہ مشیر تعلیم اور ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر خان مشیر صحت ہوں گی۔

ڈاکٹر سرفراز علی شاہ کو معدنی وسائل، ڈاکٹر محمد ارشاد کو صنعت و تجارت، آصف رفیق آفریدی کو مواصلات، ہاؤسنگ و مقامی حکومت، مولانا محمد طیب قریشی کو مذہبی امور جبکہ عثمان سیف اللہ کو توانائی و منصوبہ بندی کا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ ثمر ہارون بلور کو مشیر اطلاعات کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

رکن قومی اسمبلی ثمر ہارون بلور نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی اور بدامنی عروج پر پہنچ چکی ہے جبکہ تعلیم سمیت تمام شعبوں کی حالت ابتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما شہداء کے جنازوں میں شرکت نہیں کرتے، حالانکہ پختون روایات میں دشمن کے گھر جا کر بھی دلجوئی کی جاتی ہے۔

ثمر ہارون بلور نے کہا کہ صوبے کے عوام نے دہشتگردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ خیبرپختونخوا میں دیرپا اور پائیدار امن قائم ہونے سے ہی ترقی اور خوشحالی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US