ریاض ایئر پورٹ پر حملے کے بعد حوثیوں کی سعودی فضائی حدود استعمال کرنے سے متعلق دھمکی: ’اس کے شدید معاشی اثرات ہو سکتے ہیں‘

سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ مسافروں کے ایک ٹرمینل پر حملے کے نتیجے میں مسافر اور ہوائی اڈے کے عملے کے ارکان ہلاک ہوئے۔
ریاض
BBC

سعودی عرب نے تصدیق کی ہے کہ سنیچر کو ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر حوثیوں کے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہو گئے ہیں۔ سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ اس حملے کے بعد ’فیصلہ کن‘ جوابی کارروائی کی جائے گی۔

سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ مسافروں کے ایک ٹرمینل پر حملے کے نتیجے میں مسافر اور ہوائی اڈے کے عملے کے ارکان ہلاک ہوئے۔

اُنھوں نے اس حملے کو ’جنگی جرم‘ قرار دیا۔

یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومتی افواج اور حوثیوں کے درمیان حالیہ عرصے میں لڑائی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ حوثی ملک کے بیشتر حصے پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ اس سے قبل جمعرات کے روز ریاض ایئر پورٹ پر ایک حملے میں ایک پائلٹ سمیت تین افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔

لیکن سنیچر کے حملے کو اس لڑائی کے دوران سعودی عرب پر ہونے والا بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے مطابق، سنیچر کے روز سعودی عرب کے مشرقی شہر دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب بھی ایک پروجیکٹائل گرا۔

ایک روز قبل سعودی حکام کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں کے ہوائی اڈے پر دو حملوں میں ایک پائلٹ سمیت تین سعودی ہلاک ہو گئے تھے۔ اس سے قبل چھ اور سات اکتوبر کو دو سعودی ہوائی اڈوں پر حوثیوں کے حملوں میں مزید تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

’زخمی مدد کے لیے پکار رہے تھے، ہر کوئی بھاگ رہا تھا‘

ریاض ایئر پورٹ پر موجود ایک عینی شاہد نے خبر رساں اداروں کو بتایا کہ اُنھوں نے گیٹ نمبر چار کو نشانہ بنتے دیکھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ زخمی میرے سامنے تھے اور ہر کوئی بھاگ رہا تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا کہ ایک درجن سے زائد ایمبولینسیں ہوائی اڈے کی جانب تیزی سے جاتی دیکھی گئیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ وہ سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ اُنھوں نے تصدیق کی کہ ان حملوں میں ایک امریکی شہری ہلاک ہوا ہے۔

سعودی عرب میں مغربی ممالک کے سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو ہوائی اڈے سے دور رہنے کی تنبیہ کی ہے۔ برطانیہ کے دفترِ خارجہ نے برطانوی شہریوں کو ہدایت دی کہ ’جب تک ہوائی اڈہ محفوظ قرار نہیں دیا جاتا اس علاقے میں جانے سے گریز کریں۔‘

خلیجی ممالک کی متعدد ایئرلائنز نے کہا ہے کہ اُنھوں نے ہوائی اڈے کے لیے اور وہاں سے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

فضائی پروازوں کی نگرانی کرنے والے ادارے فلائٹ ریڈار کے مطابق، ریاض جانے والی تمام پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے یا انھیں منسوخ کر دیا گیا ہے۔

Saudi Arabia
Getty Images

دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ریاض ایئر پورٹ پر حملہ ناقابلِ قبول ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ اس صورتحال پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے رابطہ کریں گے۔

اس سے پہلے امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ جلد فیصلہ کریں گے کہ آیا امریکہ ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی کارروائیوں میں حصہ لے گا یا نہیں۔

صدر ٹرمپ کا یہ بیان ریاض ایئر پورٹ پر حملے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق کم از کم 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا: ’ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ ہم اس کا جائزہ لیں گے۔ ہمیں ابھی حالیہ حملے کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے، اس لیے ہم فیصلہ کریں گے۔‘

اُنھوں نے مزید کہا: ’ہم بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔‘

Trump
Getty Images

پاکستان کی مذمت

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ریاض میں شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور دونوں ممالک کے درمیان اُخوت کے دیرینہ تعلقات کے پیشِ نظر سعودی عرب کی خود مختاری، علاقائی سالمیت کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا کے شہریوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملے قطعی ناقابلِ قبول ہیں اور علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ تشدد کے ایسے واقعات، جو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، کا فوری طور پر خاتمہ ہونا چاہیے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان مملکتِ سعودی عرب، اس کی قیادت اور برادر عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

بعدازاں پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان مکہ مشترکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کی سلامتی اور خود مختاری کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

Riyadh
Getty Images

اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ شہری املاک اور ہوائی اڈوں پر حملہ دہشت گردی اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مکہ اتحاد کی سیاسی، دفاعی اور سٹریٹیجک کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کے تناظر میں پاکستان سعودی عرب کی خود مختاری کے تحفظ کے عزم پر قائم ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ شہریوں اور انفرسٹرکچر پر حوثی ملیشیا کا حملہ ناقابلِ قبول ہے اور اس کی عالمی سطح پر مذمت کی جانی چاہیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے اور حوثی ملیشیا پر زور دیتا ہے کہ اس نوعیت کے حملے فوری طور پر روکے۔

دہائیوں بعد سعودی عرب کو سنگین خطرے کا سامنا

بی بی سی کے نامہ نگار برائے سکیورٹی فرینک گارڈنر کہتے ہیں کہ سعودی عرب اس صورتحال کے لیے تیار نہیں تھا۔

گذشتہ چند دنوں میں حوثیوں کے حملوں نے ملک کے اہم بنیادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے، جن میں دارالحکومت کے مرکزی ایئرپورٹ پر حملے بھی شامل ہیں اور بظاہر یہ حملے سعودی فضائی دفاع کو باآسانی عبور کرتے ہوئے دکھائی دیئے۔

اگرچہ املاک کو ہونے والے نقصان کی مرمت نسبتاً جلد کی جا سکتی ہے، لیکن مستحکم اور محفوظ پناہ گاہ سمجھے جانے والے سعودی عرب کی ساکھ کو اس سے شدید دھچکا پہنچ رہا ہے۔

2000 کی دہائی کے وسط میں القاعدہ کی شورش کے بعد پہلی مرتبہ مملکت کو اس نوعیت کے سنگین خطرے کا سامنا ہے۔ سعودی حکومت نے اُس چیلنج پر عوامی حمایت حاصل کرنے کی ایک مؤثر مہم کے ذریعے قابو پایا تھا۔

اس کے بعد اس نے عرب دنیا میں آنے والی 'عرب سپرنگ' کی تحریکوں کا بھی مقابلہ کیا، جس کے نتیجے میں تیونس، لیبیا، مصر اور یمن کے رہنما اقتدار سے محروم ہو گئے تھے۔ یہاں تک کہ مارچ میں ریاض پر ایران کے بیلسٹک میزائل حملے کو بھی اس نے کسی حد تک ناگواری کے باوجود برداشت کیا۔

بحیرۂ احمر کے کنارے واقع جیزان سے لے کر خریص کے پیٹروکیمیکل کمپلیکس تک، ایران کے حمایت یافتہ حوثی دھماکہ خیز ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے مہلک درستگی کے ساتھ سعودی عرب پر حملے کر رہے ہیں۔

اب ایسا دکھائی دیتا ہے کہ کسی غیرمستحکم جنگ بندی تک پہنچنے سے قبل ایک بار پھر اس جنگ میں شدت آئے گی۔

بی بی سی مانیٹرنگ مشرق وسطیٰ کے صحافی ہشام شاویش کہتے ہیں کہ اتوار کی صبح حوثیوں کی جانب سے ایک نئی تنبیہ جاری کی گئی جس میں لوگوں کو سعودی ہوائی اڈوں اور فضائی حدود استعمال نہ کرنے کا انتباہ دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ تازہ انتباہ سعودی عرب پر دباؤ ڈالنے کی مہم کا حصہ ہیں تاکہ وہ یمن میں حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں کی ناکہ بندی ختم کرے۔‘

'اس قسم کی تنبیہ کا مقصد دراصل نفسیاتی اور معاشی اثرات کو بڑھانا ہے۔ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ ایئر لائنز کی سینکڑوں پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہو چکی ہیں، اس لیے اس کا بڑا اثر پڑتا ہے۔'

وہ کہتے ہیں کہ اس سے مسافر اور انشورنس کمپنیاں بھی زیادہ محتاط ہوں گی۔ 'اس کا مقصد بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانا ہے۔'

وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ممکن ہے کہ ہم 'سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھیں گے تاکہ ممالک یا تو سعودی ہوائی اڈوں کے خلاف حوثیوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کی مذمت کریں یا پاکستان اور ترکی کی جانب سے مداخلت کی حمایت کریں، جو مکہ معاہدے کے دیگر دو دستخط کنندہ ممالک ہیں۔'


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US