فرانس میں ہنگاموں اور لوٹ مار کے بعد پیرس میں کرفیو نافذ

فرانس میں طلبہ کے احتجاج سے شروع ہونے والی تحریک ملک گیر ہنگاموں اور لوٹ مار میں تبدیل ہو گئی ہے، جس کے بعد وسطی پیرس سمیت کئی شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
پیرس میں ایک خاتون ہنگاموں کے دوران جلائی گئی گاڑی کی تصویر لے رہی ہیں
AFP via Getty Images
پیرس میں ایک خاتون ہنگاموں کے دوران جلائی گئی گاڑی کی تصویر لے رہی ہیں

فرانس میں ہفتے کے اختتام پر ہونے والی ہنگامہ آرائی اور لوٹ مار کے بعد وسطی پیرس اور دیگر شہروں کے بعض حصوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

پیرس پولیس نے کہا ہے کہ مظاہرین جس جگہ جمع ہوئے تھے، وہاں رات 11 بجے سے صبح چھ بجے تک کرفیو نافذ رہے گا۔

شہر کے مرکز میں واقع کئی دیگر حصوں میں بھی بغیر اجازت اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

جنوبی فرانس کے متعدد شہروں میں جزوی کرفیو کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت نوجوانوں کی نقل و حرکت اور اجتماعات کو محدود کیا جائے گا۔

اس سے قبل وزیر داخلہ لوراں نونیز، جنھیں اپوزیشن سیاست دانوں کی جانب سے بد امنی سے نمٹنے کی تیاریوں پر شدید تنقید کا سامنا رہا ہے، لیکن جن کا استعفیٰ صدر ایمانویل میکخواں نے مسترد کر دیا تھا، نے اعتراف کیا کہ بعض شہروں میں پولیس ’کنٹرول کھو بیٹھی‘ تھی۔

مظاہروں کا آغاز گذشتہ ماہ اُس وقت ہوا تھا جب طلبہ نے تعلیمی اداروں میں بہتر سہولیات کا مطالبہ کیا، تاہم بعد ازاں یہ احتجاج مختلف اور وسیع تر عوامی مسائل تک پھیل گیا۔ اس ہفتے کے اختتام پر ہونے والے مظاہروں میں مزدور یونینوں اور مختلف احتجاجی گروہوں کی شمولیت کے باعث شرکا کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں
Getty Images
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں

حکام کے مطابق 2500 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مظاہرین میں شامل ایک شخص کا ہاتھ وہ گرینیڈ پھٹنے سے اُڑ گیا جو پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پھینکا تھا۔

ان واقعات میں تقریباً ایک ہزار پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

پیر کے روز ہونے والے ہنگامی اجلاس کے بعد فرانس کے وزیر اعظم نے کہا کہ مقامی میئروں کو ’جہاں ضرورت ہو‘ کرفیو نافذ کرنے کے اختیارات دیے جا رہے ہیں، تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن شہروں میں یہ نافذ ہو گا۔

وزیر اعظم سیباستیان لیکورنو نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کیے جانے کا امکان بھی مسترد نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے بھی فنڈز مختص کرے گی اور یہ رقم تشدد کے ذمہ دار افراد سے وصول کی جائے گی۔

لیکورنو نے کہا: ’ایک قانون متعارف کرایا جائے گا جس کے ذریعے یہ یقینی بنانے کے طریقے وضع کیے جائیں گے کہ جن لوگوں نے املاک کو نقصان پہنچایا ہے، انھیں اس کی قیمت ادا کرنا ہو گی۔‘

وزیر اعظم نے ان افراد کے لیے جزوی بے روزگاری فنڈ کا بھی اعلان کیا جو ہنگاموں اور لوٹ مار کے نتیجے میں کام نہیں کر سکے۔

فرانس میں مظاہروں کے دوران کئی علاقوں میں عمارتوں کو آگ لگا دی گئی۔
Getty Images
فرانس میں مظاہروں کے دوران کئی علاقوں میں عمارتوں کو آگ لگا دی گئی

دریں اثنا، وزیر داخلہ نونیز نے کہا کہ 200 تفتیش کار سی سی ٹی وی فوٹیج کا تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ مظاہرین کو ہنگامہ آرائی پر اکسانے والے سرغنہ افراد کی نشان دہی کی جا سکے۔

فرانسیسی صدر کی سرکاری رہائش گاہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیر داخلہ لوراں نونیز نے اتوار کو استعفیٰ دینے کی کوشش کی تھی، لیکن میکخواں نے ’قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قیادت کے تسلسل کی ضرورت‘ کے پیش نظر اسے مسترد کر دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ نونیز کو ان امور کے بارے میں شفاف ہونا چاہیے جنھیں میکخواں نے ’خفیہ معلومات کے حصول اور پیشگی اندازہ لگانے میں ناکامیاں‘ قرار دیا۔

فرانس کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (سی سی آئی) کے سربراہ الان دی کریسینزو کے مطابق ہفتے کے اختتام پر ہونے والے تشدد سے 2000 سے زیادہ دکانیں اور دیگر کاروبار براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔

فرانس کے نشریاتی ادارے آر ٹی ایل سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ہنگاموں سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ ’کروڑوں یورو‘ میں ہے۔

سی سی آئی کی مارسیئے شاخ کے صدر ژاں لوک شووین نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کے بہت سے دکان دار ’شدید ذہنی اذیت‘ میں مبتلا ہیں اور اپنے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ ہیں۔

دو فرانسیسی حکومتی وزرا نے کہا کہ لوٹ مار کے دوران چرایا گیا سامان فروخت کے لیے آن لائن پلیٹ فارمز پر پیش کیا جا رہا ہے۔

ایسے ہی ایک پلیٹ فارم ونٹِڈ کے ایک ترجمان نے کہا کہ چوری شدہ سامان کی فروخت ’سختی سے منع‘ ہے۔

ترجمان نے کہا: ’اس ہفتے کے اختتام سے ہی ہماری ٹیموں نے اقدامات کیے ہیں تاکہ لوٹ مار سے حاصل کیا سامان فروخت کے لیے پیش نہ کیا جا سکے۔‘

ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی اور خراب ہوتی عوامی خدمات کے خلاف احتجاج کے لیے تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے
Getty Images
ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی اور خراب ہوتی عوامی خدمات کے خلاف احتجاج کے لیے تقریباً پانچ لاکھ 50 ہزار مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے

ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی اور خراب ہوتی عوامی خدمات، جن میں سکول بھی شامل ہیں، کے خلاف احتجاج کے لیے ہفتے کے اختتام پر تقریباً پانچ لاکھ 50 ہزار مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔

ہنگامہ آرائی کرنے والے گروہوں میں بعض افراد نے سیاہ لباس پہن رکھے تھے اور ماسک سے چہروں کو ڈھانپ رکھا تھا۔ انھیں پیرس، مارسیئے اور دیگر شہروں اور چھوٹے قصبوں میں گاڑیوں اور عمارتوں کو آگ لگاتے اور کاروباری مراکز کو لوٹتے دیکھا گیا۔

ہنگامہ آرائی کرنے والوں نے آگ لگا کر وسطی شہر لیموج میں 19 ویں صدی کے شاندار سٹی ہال کو نقصان پہنچایا۔

لیموج کے سٹی ہال کی تباہ شدہ عمارت
AFP via Getty Images
لیموج میں سٹی ہال کی تباہ شدہ عمارت

پیرس میں کپڑوں اور کریانے کی دکانوں میں لوٹ مار کی گئی، جبکہ شہر لیل میں واقع ایک ایپل اسٹور میں توڑ پھوڑ کے بعد اسے خالی کر دیا گیا۔

بی بی سی ویریفائی سے تصدیق شدہ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گرینوبل میں چند نقاب پوش افراد ایک سیاحتی ٹرین چلا کر تنگ گلی سے گزرتے ہوئے کم از کم تین انسدادِ فسادات پولیس اہلکاروں کی جانب لے جا رہے ہیں۔

میکخواں نے کہا، ’جن لوگوں نے توڑ پھوڑ کی، سرکاری دفاتر اور کاروباری مراکز پر حملے کیے اور ہمارے ٹاؤن ہالز کو بھی نشانہ بنایا، ان کے خلاف مقدمات چلائے جائیں گے اور انہیں سزا دی جائے گی۔‘

حکومت نے صورتحال کو سنبھالنے کے لیے بعض اقدامات بھی کیے ہیں۔ وزیرِ تعلیم ایڈوارڈ گیفرے نے 8 اکتوبر کو ایک ٹی وی انٹرویو میں 3000 اضافی اساتذہ بھرتی کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

تاہم ان اعلانات کے باوجود احتجاجی مظاہرے جاری رہے اور وقت گزرنے کے ساتھ مزید شدت اختیار کر گئے۔

یہ مظاہرین کون ہیں؟

فرانسیسی پولیس نے تقریباً 1200 افراد کو گرفتار کیا ہے
Getty Images

بی بی سی نیوز نے پیرس کی سڑکوں پر بعض مظاہرین سے گفتگو کی۔

ایک طالب علم نے کہا کہ ان مظاہروں میں شریک ہونا ’بہت اہم‘ ہے۔ ان کے مطابق آج سڑکوں پر صرف طلبہ ہی نہیں بلکہ محنت کش اور دیگر کارکن بھی موجود ہیں۔

طلبہ کے کئی ہفتوں پر محیط احتجاج کے بعد نام نہاد ’ییلو ویسٹ‘ تحریک اور ٹریڈ یونینز نے بھی مہنگائی اور عوامی خدمات کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے خلاف وسیع تر احتجاج میں نوجوانوں کا ساتھ دیا ہے۔

ایک اور طالب علم نے بی بی سی کو بتایا کہ ان مسائل کے خلاف آج ’تمام نسلیں‘ سڑکوں پر موجود ہیں۔

انھوں نے مزید کہا: ’اس سے ہمیں آگے بڑھنے اور حکومت تک اپنی آواز پہنچانے کی حقیقی طاقت ملتی ہے۔‘

ایک اور مظاہرین نے کہا کہ وہ ’انتہا پسند سیاست کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’ان حالات میں زندگی گزارنا ناممکن ہو گیا ہے۔‘

فرانس میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کے لیے ایک انتباہ جاری کیا ہے جس میں انھیں حالیہ مظاہروں سے متاثرہ علاقوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

انتباہ میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ بڑے اجتماعات کے قریب ہوں تو 'احتیاط برتیں'۔

فرانس میں تشدد کے دوران ایک ہزار کے قریب پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں
Reuters
فرانس میں تشدد کے دوران ایک ہزار کے قریب پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں

چین اور جرمنی نے بھی اسی نوعیت کے انتباہات جاری کیے ہیں۔

کچھ سیاست دانوں نے بائیں بازو کی جماعت لا فرانس اَن سومیز پر تشدد میں کردار ادا کرنے کا الزام لگایا ہے، جبکہ لیکورنو نے ایک سابقہ پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ بعض گروہ ’صدارتی انتخابات تک ہمارے ملک میں افراتفری پیدا کرنا چاہتے ہیں۔‘

جماعت کے رہنما ژاں لوک میلانشوں، جو اگلے سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے، نے جواب میں فرانسیسی وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ ’اپنے الزام کا ثبوت دیں‘ یا پھر ’معذرت کریں، خاموش رہیں، اور بد امنی کو ہوا دینا بند کریں۔‘

اگرچہ فرانس میں احتجاجی مظاہرے اور بدامنی کوئی نئی بات نہیں، لیکن اس بار کی صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک گہری سیاسی غیر یقینی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں اگلے سال اپنا عہدہ چھوڑنے والے ہیں، جبکہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں نیشنل ریلی کی رہنما میرین لو پین اور سخت بائیں بازو کی جماعت لا فرانس انسومیس کے رہنما ژاں لوک میلانشون کے درمیان سخت مقابلہ ہو سکتا ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US