دنیا بھر میں نوجوانوں کے لیے روزگار کا حصول آنے والے برسوں میں مزید مشکل ہوسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے خبردار کیا ہے کہ اگلے 10 سے 15 سال کے دوران تقریباً 120 کروڑ نوجوان ملازمتوں کی تلاش میں نکلیں گے، لیکن اس عرصے میں صرف 40 کروڑ نئی نوکریاں پیدا ہونے کی توقع ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق اگر روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی رفتار نہ بڑھی تو تقریباً 80 کروڑ نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کی کمی کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر ان ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے جہاں نوجوانوں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
یو این ڈی پی کے سربراہ الیگزینڈر ڈی کرو نے بنکاک میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ دنیا کی کئی معیشتیں نوجوانوں کی بڑھتی تعداد کے مطابق ملازمتیں فراہم کرنے میں پیچھے رہ گئی ہیں۔ ہر سال لاکھوں نوجوان اپنی تعلیم مکمل کرکے عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں، لیکن انہیں اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ صرف بے روزگاری تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات ملکی معیشت، لوگوں کی آمدنی اور معاشرتی حالات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اگر نوجوانوں کو مناسب مواقع نہ ملے تو معاشی ترقی کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
تاہم اقوام متحدہ نے واضح کیا کہ اس بحران سے بچنا ممکن ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومتیں روزگار پیدا کرنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں، نئے کاروباروں کی حوصلہ افزائی کریں اور نوجوانوں کو ایسی تربیت فراہم کریں جو موجودہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہو۔
ڈی کرو نے ترقی پذیر ممالک پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا، جہاں بڑی نوجوان آبادی معاشی ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے، بشرطیکہ اسے تعلیم، ہنر اور کام کرنے کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں۔
اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے یو این ڈی پی نے 13 اکتوبر کو بنکاک میں دو نئے پروگرام متعارف کرائے، جن کا مقصد ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ کاری کو آسان بنانا اور ملازمتوں کی تعداد بڑھانا ہے۔
ان منصوبوں میں انویسٹمنٹ ایکسیلیریٹر اور جابز فار پراسپرٹی فیسیلٹی شامل ہیں۔ ان کے ذریعے حکومتوں اور نجی کمپنیوں کے درمیان تعاون بڑھایا جائے گا تاکہ کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور نوجوانوں کو بہتر آمدنی والے روزگار میسر آسکیں۔
اقوام متحدہ اس سلسلے میں عالمی بینک، یورپی سرمایہ کاری بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کے ساتھ بھی کام کر رہا ہے تاکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں کو عملی شکل دی جاسکے۔
یو این ڈی پی کے مطابق صرف سرمایہ فراہم کرنا کافی نہیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ معاشی منصوبوں سے عام شہریوں کو فائدہ پہنچے اور نئی ملازمتیں پیدا ہوں۔