حکومتِ پنجاب نے شہریوں کی نجی زندگی اور ذاتی معلومات کے تحفظ کے لیے جاسوسی کے آلات کے استعمال اور خرید و فروخت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
حکومتی فیصلے کے تحت خفیہ کیمروں اور ریکارڈنگ سسٹم سے لیس عینکوں، پین، گھڑیوں اور دیگر الیکٹرانک ڈیوائسز کے غیر قانونی استعمال کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
حکومت کے مطابق یہ اقدام بالخصوص خواتین اور بچوں کو ہراسانی، غیر قانونی نگرانی اور بلیک میلنگ جیسے واقعات سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ خفیہ ریکارڈنگ آلات کے ذریعے شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت اور ذاتی معلومات کے غلط استعمال سے متعلق شکایات سامنے آنے کے بعد اس معاملے پر سخت اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومتِ پنجاب کا کہنا ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق، نجی معلومات اور ذاتی زندگی کا تحفظ اولین ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ خفیہ کیمروں سے لیس روزمرہ استعمال کی اشیاء کے غیر قانونی استعمال اور ان کی خرید و فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔