سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے گرین لائن بی آر ٹی کے آپریشنز کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہیں بی آر ٹی نظام، دیگر ٹرانسپورٹ منصوبوں کے انضمام اور مسافروں کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اس موقع پر سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سی ای او ٹرانس کراچی زبیر چنہ، پراجیکٹ ڈائریکٹر کمال دایو اور ایم ڈی ایس ایم ٹی اے بہزاد میمن بھی ان کے ہمراہ تھے۔
شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ سندھ حکومت آئندہ چھ سے آٹھ ماہ میں صوبے کے تمام اضلاع میں سڑکوں کی تعمیر شروع کرے گی۔ کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب گرین لائن وفاقی حکومت کے پاس تھی تو روزانہ تقریباً 50 ہزار مسافر سفر کرتے تھے، لیکن سندھ حکومت کی بہتر حکمتِ عملی اور محنت کے بعد اب اس پر یومیہ مسافروں کی تعداد بڑھ کر تقریباً 90 ہزار ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ اورنج، گرین، ریڈ اور یلو لائن بی آر ٹی منصوبوں کو باہم مربوط کیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو بہتر سفری رابطہ مل سکے۔
کے پی کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ وہاں کا سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی اور افغانستان سے دراندازی ہے، لیکن بدقسمتی سے صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ کا رویہ دہشت گردوں کے ساتھ نرم رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کرنے کے بجائے مذاکرات اور طالبان کے حامی اقدامات کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔ سندھ اور بلوچستان میں حکومتوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا مؤثر مقابلہ کیا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا حکومت عوام کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے علاوہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں دہشت گردی کا شکار رہی ہیں اور ریاست ہر صورت اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے گی۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اصولوں کی سیاست کی ہے اور وزارتوں کے حصول کے لیے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ اپنے دورہِ چین کے حوالے سے صوبائی کابینہ کو خود بریفنگ دیں گے۔