نریندر مودی کی 33 سال پہلے وفات پانے والے سوامی سے ’گفتگو‘ تنقید کی زد میں کیوں؟

انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے چند دن قبل نئی دہلی میں ایک عالمی کانفرنس کا افتتاح کیا تو اس دوران انھوں نے سوامی چنمیانند سے بھی بات چیت کی جو 1993 میں وفات پا گئے تھے۔ لیکن یہ گفتگو ممکن کیسے ہوئی اور اس مکالمے پر تنقید کیوں ہو رہی ہے؟
मोदी
mygovindia
سوامی چنمیانند کی اے آئی ہولوگرام سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم مودی نے اپنے مستقبل کے منصوبوں کے لیے آشیرباد کی درخواست کی۔

انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے چند دن قبل نئی دہلی میں چنمیا امرت مہوتسو عالمی کانفرنس کا افتتاح کیا تو اس دوران انھوں نے سوامی چنمیانند کے ایک اے آئی ہولوگرام سے بھی بات چیت کی جس میں مودی نے 1993 میں روحانی پیشوا سے ہونے والی اپنی ’ملاقات‘ کا بھی ذکر کیا۔

سوامی چنمیانند کوں ہیں اور اس مکالمے پر تنقید کیوں ہو رہی ہے؟

سوامی چنمیانند کی اے آئی ہولوگرام سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم مودی نے اپنے مستقبل کے منصوبوں کے لیے آشیرباد کی درخواست کی تھی۔

نریندر مودی نے کہا تھا ’یہ میری خوش قسمتی تھی کہ آپ سے ملاقات ہوئی اور آج میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اس کام کے لیے آشیرباد دیں جو میں کرنا چاہتا ہوں۔‘

مودی کے بیان کے جواب میں سوامی چنمیانند کے ہولوگرام نے انھیں وزیرِ اعظم بنے دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’نریندر، انڈیا آپ کے ساتھ ہے۔‘

انڈین نیوز ویب سائٹ ’دی وائر‘ کے مدیر سدھارتھ وردراجن نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’جب مرکزی دھارے کا میڈیا نریندر مودی اور ایک وفات پا چکے شخص کے اے آئی پر مبنی ہولوگرام کے درمیان اس عجیب اور فرضی گفتگو کو ’مودی نے سوامی چنمیانند سے بات کی‘ کے طور پر رپورٹ کرتا ہے تو وہ جان بوجھ کر اندھی عقیدت کی ایسی مثال قائم کر رہا ہوتا ہے جو نوٹ بندی کے دوران گودی میڈیا کی اس من گھڑت کہانی سے بھی کہیں عجیب ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کرنسی نوٹوں میں مائیکروچپس موجود ہیں۔‘

یاد رہے کہ سوامی چنمیانند 3 اگست 1993 کو امریکہ کے شہر سان ڈیاگو میں وفات پا گئے تھے۔ سدھارتھ نے سوال اٹھایا کہ اے آئی پر مبنی ہولوگرام کے ذریعے کی گئی ایک فرضی گفتگو کو میڈیا میں کیوں دکھایا جا رہا ہے۔

تاہم انڈیا کے وزیر برائے ثقافت و سیاحت گجیندر سنگھ شیخاوت اسے عقیدت اور جدید ٹیکنالوجی کا ایک غیر معمولی امتزاج قرار دیتے ہیں۔

سوامی چنمیانند
chinmayamission
سوامی چنمیانند اگست 1993 میں سان ڈیاگو میں وفات پا گئے تھے۔

انڈیا کی حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس کی تنظیم کانگریس سیوا دل کے چیف آرگنائزر سرینواس بی وی ایکس پر لکھتے ہیں کہ ’'دنیا صحت، تعلیم اور سائنس میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے لیے اے آئی کا استعمال کر رہی ہے، جبکہ مودی جی اسے 1993 میں وفات پا جانے والے ایک بابا جی سے اپنی تعریف کروانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘

سرینواس بی وی نے سوامی چنمیانند کی ایک پرانی ویڈیو کلپ بھی پوسٹ کی ہے جسے اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے کہ یہ مودی اور ان کی جماعت کے نظریے سے مطابقت نہیں رکھتی۔

اس ویڈیو کلپ میں سوامی چنمیانند کہتے ہیں ’اچھے لوگوں کو مذہب کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘

چنمیا مشن کے ایک چینل کی جانب سے 27 مئی 2020 کو اپ لوڈ کیا گیا سوامی چنمیانند کا یہ خطاب ان کی زندگی میں ریکارڈ کیا گیا تھا تاہم ریکارڈنگ کی درست تاریخ معلوم نہیں۔

اس ویڈیو میں سوامی چنمیانند کہتے ہیں ’آپ مذہب کو نہیں سمجھتے۔ مذہب میں تو ہر طرح کے بدمعاش بھرے پڑے ہیں۔ مذہب کی ضرورت صرف بدمعاشوں کو ہوتی ہے۔ اچھے لوگوں کو کسی مذہب کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لوگ پوچھتے ہیں: ’سوامی جی، ایسا کیوں ہے کہ آپ کے اردگرد رہنے والے تمام لوگ بدطینت اور بری خواہشات رکھنے والے ہیں؟‘

’'میں کہتا ہوں، میرے عزیز دوست، کسی مشہور ڈاکٹر کے پاس ہمیشہ کس طرح کے لوگ آتے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی کسی ڈاکٹر کو یہ شکایت کرتے سنا ہے کہ میں اس پیشے سے تنگ آ چکا ہوں اور اب اسے چھوڑنا چاہتا ہوں؟ کیوں؟ کیونکہ میرے پاس کوئی صحت مند شخص آتا ہی نہیں۔ آخر ایک صحت مند شخص کو ڈاکٹر کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے؟ اسی طرح کسی اہل سوامی کے اردگرد برے لوگ ہی ہوں گے، کیونکہ انھیں خود کو بہتر بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

स्वामी चिन्मयानंद
chinmayamission

ہولوگرام ٹیکنالوجی کیسے کام کرتی ہے؟

آپ حقیقت میں ہولوگرام کے ذریعے کسی وفات پا چکے شخص سے بات نہیں کر سکتے۔ یہ ٹیکنالوجی اس شخص کی ایک ڈیجیٹل نقل تیار کرتی ہے اور آپ کو اس کے ساتھ بظاہر بات چیت کرنے کی سہولت دیتی ہے۔

یہ نقل اس شخص کی ریکارڈنگز، تصاویر، پیغامات اور دیگر دستیاب مواد کی بنیاد پر تیار کی جاتی ہے۔ اس کا اس شخص کے شعور یا ذہنی وجود سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

ہولوگرام سے ہونے والی گفتگو کیسے کام کرتی ہے؟

سافٹ ویئر وفات پا چکے شخص کے پیغامات، ای میلز اور ریکارڈنگز کو استعمال کرتے ہوئے اس کے اندازِ گفتگو کی نقل کرتا ہے۔ اے آئی نیا جواب تیار کرتی ہے، وائس کلوننگ ٹیکنالوجی وفات پا چکے شخص کی آواز جیسا بنا دیتی ہے، جبکہ ایک ڈیجیٹل اوتار اس کے چہرے کے خدوخال کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ الفاظ سافٹ ویئر کے ذریعے تخلیق کیے جاتے ہیں۔

ہولوگرام ڈیجیٹل طور پر دوبارہ تخلیق کیے گئے شخص کا تاثر پیدا کرتی ہے، لیکن ہولوگرام خود جوابات تخلیق نہیں کرتا۔ گفتگو کا حصہ پہلے سے موجود مواد یا اے آئی پر مبنی ہوتا ہے، جبکہ بصری حصہ اس شخص کی تصویر دکھاتا ہے۔ بعض سروسز دونوں کو یکجا کر کے انٹرایکٹو ویڈیو یا آگمینٹڈ ریئلٹی کا تجربہ بھی فراہم کرتی ہیں۔

مثال کے طور پر اگر آپ کسی شخص کے اے آئی ہولوگرام سے کوئی مشورہ مانگیں تو اس شخص کا ایک اے آئی اوتار اس کی مانوس آواز میں ایک قابلِ یقین جواب دے سکتا ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ اگر مذکورہ شخص زندہ ہوتا تو وہ آپ کو وہی مشورہ دیتا جو اس کے اے آئی ہولوگرام نے دیا۔

स्वामी चिन्मयानंद
chinmayamission
سوامی چنمیانند 8 مئی 1916 کو بھارت کی ریاست کیرالہ کے شہر ارناکولم میں پیدا ہوئے تھے۔

کیا وزیرِ اعظم مودی کی سوامی چنمیانند سے ملاقات ہوئی تھی؟

وزیرِ اعظم مودی 2015 میں ایک یادگاری سکہ جاری کرنے کی تقریب اور بعد ازاں 23 اکتوبر 2026 کو ایک تقریر دوران دعویٰ کر چکے ہیں کہ ان کی سوامی چنمیانند سے ملاقات سنہ 1993 کے فروری یا مارچ میں وڈودرا میں ہوئی تھی۔

ان کے مطابق وہ سوامی وویکانند کی شکاگو تقریر کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کی دعوت دینے گئے تھے۔ مودی کے مطابق اس ملاقات میں دونوں نے نوجوانوں کی طاقت، یا ’یووا شکتی‘، کو مضبوط انڈیا کی تعمیر کے لیے بروئے کار لانے پر گفتگو کی تھی۔

اس وقت مودی گجرات بی جے پی کے تنظیمی سیکریٹری تھے۔ یہ ملاقات بابری مسجد کی شہادت کے چند ماہ بعد ہوئی تھی۔ اس وقت وشوس ہندو پرشاد (وی ایچ پی) پر پابندی عائد تھی۔ بعض رپورٹس کے مطابق سوامی چنمیانند وی ایچ پی کے شریک بانیوں میں سے ایک تھے۔

سوامی کو شکاگو میں ہونے والی ورلڈ پارلیمنٹ آف ریلیجنز میں ہندو وفد کا صدر منتخب کیا گیا تھا۔ یہ اجتماع 28 اگست سے 4 یا 5 ستمبر تک منعقد ہوا تھا۔

اس کے علاوہ انھیں 6 سے 8 اگست کے دوران واشنگٹن میں ہونے والے وی ایچ پی کے ’گلوبل وژن 2000‘ پروگرام میں بھی ایک اعزاز دیا جانا تھا۔

سوامی چنمیانند کو 26 جولائی کو سان ڈیاگو میں دل کا دورہ پڑا اور 29 جولائی کو ان کی بائی پاس سرجری کی گئی۔ 3 اگست 1993 کو سان ڈیاگو میں ان کی وفات ہو گئی تھی۔ 19 اگست کو انھیں ہماچل پردیش کے سدھباڑی میں سپردِ خاک کیا گیا۔

شکاگو میں مودی کی میزبانی کرنے والے ایک شخص کے مطابق مودی اور مرلی منوہر جوشی ستمبر 1993 میں بی جے پی کی نمائندگی کے لیے وہاں گئے تھے۔ دیگر افراد کو اگست میں واشنگٹن میں ہونے والے پروگرام میں مودی کی شرکت یاد ہے۔

تاہم مودی نے 2015 میں کہا تھا کہ سوامی کی وفات اس تقریب سے تین دن قبل ہوئی تھی۔ یہ بیان واشنگٹن میں 6 اگست کو شروع ہونے والے پروگرام سے مطابقت رکھتا ہے۔

لیکن 23 اکتوبر 2026 کو مودی نے 1993 کی ورلڈ پارلیمنٹ آف ریلیجنز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سوامی کی وفات اس اجتماع سے چند ہفتے پہلے ہوئی تھی۔

مودی کا کہنا تھا کہ ورلڈ پارلیمنٹ آف ریلیجنز 11 ستمبر کو منعقد ہوئی تھی، جبکہ یہ اجتماع 5 ستمبر تک اختتام پذیر ہو چکا تھا۔ 11 ستمبر دراصل سوامی وویکانند کی تاریخی شکاگو تقریر کی سالگرہ ہے۔

ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ دونوں کی ملاقات شکاگو میں ہوئی تھی، تاہم سرکاری تقریروں کے متن میں ملاقات کا مقام وڈودرا درج ہے۔

2026 کی تقریب میں پیش کیے گئے اے آئی ہولوگرام کے مکالمے میں یہ جملہ شامل تھا: ’میں نے اُس وقت آپ سے کہا تھا کہ میں بوڑھا ہو رہا ہوں۔‘

یہ الفاظ اے آئی ہولوگرام کے ذریعے پیش کیے گئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جا سکتا سوامی چنمیانند نے اصل میں مودی سے یہ الفاظ ماضی میں کہے تھے۔

स्वामी चिन्मयानंद
chinmayamission
انڈیا کے سابق صدر اے پی جے عبدالکلام نے مئی 2025 میں کہا تھا کہ سوامی چنمیانند بین المذاہب مکالمے کے مضبوط حامی تھے۔

سوامی چنمیانند کون تھے؟

سوامی چنمیانند 8 مئی 1916 کو انڈیا کی ریاست کیرالہ کے شہر ارناکولم میں پیدا ہوئے تھے۔ دسمبر 1951 میں انھوں نے پونے میں پہلا خطاب کیا تھا جس کے بعد 8 اگست 1953 کو چنمیا مشن باضابطہ طور پر قائم کیا گیا۔

چنمیا مشن کے مطابق ان کا نام بالاکرشن مینن تھا۔ انگریزی ادب میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد انھوں نے بطور مصنف اپنا پیشہ ورانہ سفر شروع کیا۔ تاہم جلد ہی وہ صحافی کی حیثیت سے انڈیا کی تحریکِ آزادی سے وابستہ ہو گئے۔

چنمیا مشن کے مطابق، ’1942 میں قید کی سزا اور ایک شدید بیماری کا سامنا کرنے کے بعد زندگی کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر بدل گیا۔ صحافت میں واپسی کے باوجود انھیں محسوس ہوا کہ انڈیا میں سیاسی، معاشی اور سماجی اصلاحات کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کی باطنی جستجو انھیں رشی کیش لے گئی۔ یہاں نوجوان اور شکی مزاج مینن کی ملاقات سوامی شیوانند سے ہوئی اور ان کے اندر ایک گہری تبدیلی کا آغاز ہوا۔‘

سابق انڈین صدر اے پی جے عبدالکلام نے کہا تھا کہ سوامی چنمیانند بین المذاہب مکالمے کے مضبوط حامی تھے۔

مئی 2015 میں سوامی چنمیانند کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’جب میں چنمیانند کے بارے میں سوچتا ہوں تو سب سے پہلے دل کی پاکیزگی کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ سوامی مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان مکالمے پر یقین رکھتے تھے۔ ایسا مکالمہ معاشرے کو روحانی عقائد کے تنوع اور ان کے طریقِ کار کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔'ً


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US