وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت سے کبھی گورنر شپ یا کسی دوسرے عہدے کا مطالبہ نہیں کیا۔
اپنے بیان میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مولانا فضل الرحمان کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ اگر مولانا فضل الرحمان کی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے کوئی بات چیت ہوئی ہے تو اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت سے نہ گورنر شپ مانگی اور نہ ہی کسی اور چیز کا تقاضا کیا، جبکہ ان کے خیال میں جاری کیے گئے نوٹسز بھی بات چیت کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی حکومت سے کہتے تھے کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی محبت میں مارے جائیں گے، لیکن دوسری جانب خود محسن نقوی سے ملاقاتیں کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں اس لیے روکی گئیں کیونکہ ملاقاتوں کے بعد پیغامات چلائے جاتے اور نئے بیانیے بنائے جاتے تھے۔
وزیراعظم کے مشیر نے مزید کہا کہ متعلقہ افراد کو بارہا کہا گیا کہ ٹرولنگ سے گریز کریں، تاہم جب یہ سلسلہ نہ رکا تو بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں بند کرنا پڑیں۔