امریکی انتخابات میں مسلم امیدواروں کی نمایاں کامیابیاں، الہان عمر پانچویں بار منتخب، نبیلہ سید نے بھی میدان مار لیا

image

امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی پیش قدمی کے ساتھ مسلم امیدواروں کی کامیابیاں بھی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ مختلف ریاستوں میں مسلم پس منظر رکھنے والے امیدواروں نے اہم نشستیں حاصل کی ہیں، جبکہ بعض امیدواروں نے اپنی پرانی نشستیں برقرار رکھ کر سیاسی میدان میں اپنی مضبوط موجودگی ظاہر کی ہے۔

ریاست مینیسوٹا میں صومالی نژاد امریکی سیاست دان الہان عمر نے ریپبلکن امیدوار جان نیگل کو شکست دے کر مسلسل پانچویں مرتبہ ایوانِ نمائندگان میں جگہ بنالی۔ الہان عمر 2018 میں پہلی بار کانگریس کی رکن منتخب ہوئی تھیں اور 2019 سے مینیسوٹا کے پانچویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ کی نمائندگی کررہی ہیں۔

ان کی حالیہ کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انہیں امیگریشن سے متعلق الزامات اور سیاسی مخالفت کا سامنا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وفاقی حکام ان کی شہریت سے متعلق دستاویزات کی جانچ کررہے ہیں اور اکتوبر میں ان کی رہائش گاہ پر کارروائی بھی کی گئی تھی۔ تاہم الہان عمر ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی دباؤ کا حصہ قرار دیتی ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹ امیدوار ڈاکٹر عبدالسید نے ریپبلکن حریف مائیک راجرز کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست حاصل کی۔ رپورٹ کے مطابق انہیں امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا ہے۔ ان کی کامیابی کو مسلم امریکیوں کی سیاسی نمائندگی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

مشی گن ہی سے فلسطینی نژاد امریکی سیاست دان رشیدہ طلیب بھی دوبارہ ایوانِ نمائندگان کی رکن منتخب ہوگئی ہیں۔ وہ امریکی کانگریس میں فلسطینی نژاد شہریوں کی نمایاں آواز سمجھی جاتی ہیں اور مختلف قومی و بین الاقوامی معاملات پر اپنے مؤقف کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہیں۔

ریاست الینوائے میں نبیلہ سید نے بھی اہم انتخابی کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار ڈاربی ہلز کو شکست دے کر ریاستی سینیٹ کی نشست جیت لی۔ انتخابی اعداد و شمار کے مطابق نبیلہ سید کو 57 فیصد جبکہ ان کی حریف کو 43 فیصد ووٹ ملے۔

نبیلہ سید اس سے قبل 2022 میں الینوائے کی ریاستی اسمبلی کی پہلی مسلمان ارکان میں شامل ہوئی تھیں۔ اب ریاستی اسمبلی سے سینیٹ تک پہنچنا ان کے سیاسی سفر میں ایک نیا مرحلہ ہے۔

ادھر کیلیفورنیا میں مسلم امریکی امیدوار عائشہ وہاب کا مقابلہ ڈیموکریٹک پارٹی ہی کی میلیسا ہرنینڈز سے جاری ہے، جہاں حتمی نتائج سامنے آنے کا انتظار کیا جارہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس مرتبہ مجموعی طور پر 51 مسلم امیدواروں نے امریکا میں مختلف انتخابی عہدوں کے لیے حصہ لیا۔ ان میں سے 11 امیدوار وفاقی کانگریس کی نشستوں کے لیے میدان میں تھے، جبکہ باقی 40 نے ریاستی اسمبلیوں، مقامی حکومتوں اور عدالتی عہدوں کے انتخابات میں حصہ لیا۔

ان نتائج کو امریکی سیاست میں مسلم کمیونٹی کی بڑھتی ہوئی شرکت کے ایک اہم اشارے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ خاص طور پر مختلف ریاستوں میں مسلم امیدواروں کا دوبارہ منتخب ہونا ظاہر کرتا ہے کہ ان کی سیاسی حمایت صرف مذہبی یا نسلی شناخت تک محدود نہیں بلکہ مقامی مسائل، انتخابی مہم اور عوامی اعتماد سے بھی جڑی ہوئی ہے۔

اگرچہ تمام حلقوں کے نتائج ابھی مکمل نہیں ہوئے، تاہم اب تک سامنے آنے والی کامیابیوں نے امریکی سیاسی نظام میں مختلف پس منظر رکھنے والے امیدواروں کی نمائندگی پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US