لمفیٹک ڈرینج: سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرنے والا حیاتیاتی عمل کیا واقعی جسم سے زہریلے مادے خارج کرتا ہے

ایسا مواد بنانے والے دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ عمل ’لمفیٹک ڈرینج‘ کو متحرک کرتا ہے، چہرے کی سوجن کم کرتا ہے، جلد سے زہریلے مادے خارج کرتا ہے، ہلکی جھریاں کم کرتا ہے اور چہرے کو زیادہ پتلا اور ’کھنچا ہوا‘ دکھاتا ہے۔
Health
Getty Images

سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز کی بھرمار ہے جن میں چہرے کی دیکھ بھال کے ایک طریقے کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اس میں نیم قیمتی پتھروں سے بنی مختلف شکلوں اور رنگوں کی اشیا، جن میں کچھ رولر نما اور کچھ چپٹی ہوتی ہیں، کے ذریعے گالوں اور جبڑے کی ہڈیوں پر آہستہ آہستہ مساج کیا جاتا ہے۔

ایسا مواد بنانے والے دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ عمل ’لمفیٹک ڈرینج‘ کو متحرک کرتا ہے، چہرے کی سوجن کم کرتا ہے، جلد سے زہریلے مادے خارج کرتا ہے، ہلکی جھریاں کم کرتا ہے اور چہرے کو زیادہ پتلا اور ’کھنچا ہوا‘ دکھاتا ہے۔

تو آخر ’لمفیٹک ڈرینج‘ سے مراد کیا ہے، اور ان دعوؤں میں کتنی حقیقت ہے؟

ملٹی فنکشنل ’ڈرینج‘ کا نظام

انسانی جسم میں ایک اہم اور متعدد کام انجام دینے والا نظام موجود ہے جسے لمفیٹک یا لمفاوی نظام کہا جاتا ہے۔ یہ نظام مختلف بافتوں اور اعضا پر مشتمل ہوتا ہے، جن میں لمفی سیال (لمف)، لمفی رگیں، ہڈیوں کا گودا، تھائمس غدود (سینے میں موجود ایک چھوٹا غدود)، لمفی غدود، تلی، ٹانسلز، ایڈینوئڈز اور چھوٹی آنت سمیت جسم کے دیگر حصوں میں موجود لمفی بافتیں شامل ہیں۔

آسٹریلیا کی فلنڈرز یونیورسٹی میں لمفی ورم کی تحقیقاتی یونٹ کے سربراہ پروفیسر نیل بیلر، جو تقریباً پانچ دہائیوں سے لمفی نظام پر تحقیق کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ’یہ ایک نکاسی کا نظام ہے۔ میں اسے سیوریج یا صفائی کے نظام کی طرح سمجھتا ہوں جو جسم سے فاضل مادے، بڑے ذرات، بیکٹیریا اور دیگر غیر ضروری چیزوں کو خارج کرتا ہے۔ پھر یہ مادے اور سیال لمفی غدود تک پہنچائے جاتے ہیں، جہاں جسم کا دفاعی نظام متحرک ہو جاتا ہے۔‘

آسٹریلین سینٹر فار لیمافیڈیما ایجوکیشن، ریسرچ اینڈ ٹریٹمنٹ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیرو سوامی کے مطابق لمفی نظام کے تین بنیادی کام ہیں:

1۔ جسم کا دفاعی نظام:

اگر جراثیم یا کوئی بیرونی مادہ جسم میں داخل ہو جائے تو لمفی نظام اسے گھیر کر لمفی رگوں کے ذریعے لمفی غدود تک پہنچاتا ہے۔ لمفی غدود مدافعتی خلیات کا مرکز ہوتے ہیں، جہاں بی سیلز اور ٹی سیلز جیسے خلیات ان حملہ آور عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔

2۔ غذائی اجزا کا جذب:

لمفی نظام چھوٹی آنت سے چکنائی اور بعض غذائی اجزا کو جذب کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

3۔ جسم میں سیال کے توازن کو برقرار رکھنا:

یہ نظام خون کی باریک رگوں سے بافتوں میں رسنے والے اضافی سیال کو جذب کرتا ہے۔ بعد ازاں اس سیال کو لمفی غدود سے گزار کر اس میں موجود جراثیم یا فضلات کو صاف کیا جاتا ہے، اور پھر اسے محفوظ طریقے سے دوبارہ خون میں شامل کر دیا جاتا ہے تاکہ جسم میں سیال کا توازن برقرار رہے اور بافتوں میں سوجن پیدا نہ ہو۔

Health
Getty Images
لمفی نظام جسم میں سیال کے توازن کو برقرار رکھنے اور انفیکشن سے حفاظت کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے

جب لمفی سیال جمع ہو جائے اور مناسب طریقے سے خارج نہ ہو سکے تو ایک دائمی بیماری پیدا ہو جاتی ہے جسے لمفی ورم (Lymphedema) کہا جاتا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں علامت جسم کے مختلف حصوں، خاص طور پر بازوؤں اور ٹانگوں میں سوجن ہے۔

لمفی ورم کی وجہ جینیاتی خرابی بھی ہو سکتی ہے، جس کے باعث لمفی نظام کے بعض حصے صحیح طور پر نشوونما نہیں پاتے یا درست طریقے سے کام نہیں کرتے۔ اسے ابتدائی لمفی ورم کہا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ بیماری ایسے افراد میں بھی پیدا ہو سکتی ہے جن کا لمفی نظام پہلے معمول کے مطابق کام کر رہا ہو۔ اس کی عام وجوہات میں کینسر کے علاج کے لیے کی جانے والی سرجری یا شعاعی علاج، جراثیمی انفیکشن اور بعض طبی حالات سے پیدا ہونے والی سوزش شامل ہیں۔

پروفیسر سوامی کے مطابق، چھاتی کے کینسر سے متعلق لمفی ورم علاج کے بعد پیدا ہونے والا ایک عام ضمنی اثر ہے۔

ان کے بقول، ’بغل کے لمفی غدود نکالنے سے اوپری جسم، یعنی کندھے، بازو، ہاتھ یا چھاتی میں موجود لمفی رگوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ابتدائی مرحلے میں وہاں سیال جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس بیماری کی بنیادی وجہ جراحی کے باعث صحت مند لمفی رگوں کی تعداد میں کمی ہے۔ اس کے علاوہ کینسر کا علاج لمفی نظام میں سیال کے تبادلے کے عمل کو بھی متاثر کرتا ہے، جس کے باعث متاثرہ عضو میں انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ مدافعتی نظام کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔‘

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کے مطابق لمفی ورم کا علاج دباؤ ڈالنے والی پٹیوں، خصوصی مساج کے طریقے جنہیں ہاتھ سے کی جانے والی لمفی نکاسی (Manual Lymphatic Drainage - MLD) کہا جاتا ہے، ورزش اور جلد کی نگہداشت کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

بعض کم تعداد والے کیسز میں متاثرہ حصے سے اضافی چربی نکالنے کے لیے سرجری بھی کی جاتی ہے، یا ایسی جراحی کی جاتی ہے جس کے ذریعے متاثرہ حصے میں لمفی سیال کے بہاؤ کو دوبارہ بحال کیا جاتا ہے، مثلاً لمفی نظام کو قریبی خون کی رگوں سے جوڑ کر۔

کیا ہمیں ’لمفی ڈیٹاکس‘ کی ضرورت ہے؟

Health
Getty Images
لمفی ورم (Lymphedema) ایک دائمی بیماری ہے جس کی سب سے نمایاں علامت جسم کے مختلف حصوں، خصوصاً بازوؤں اور ٹانگوں میں سوجن پیدا ہونا ہے۔

حالیہ برسوں میں یہ خیال بہت مقبول ہوا ہے کہ اچھی صحت، بہتر جلد اور وزن کم کرنے کے لیے جسم سے ’زہریلے مادوں‘ کو نکالنا ضروری ہے، جسے عام طور پر ’ڈیٹاکس‘ کہا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ڈیٹاکس کے مختلف طریقے مقبول ہیں، جن میں مخصوص پھلوں، سبزیوں یا جڑی بوٹیوں سے بنے مشروبات پینا، مختلف غذائی پرہیز کرنا، زیادہ پانی پینا، غذائی سپلیمنٹس استعمال کرنا، پیٹ کی ناف پر ارنڈ کے تیل سے مساج کرنا اور حالیہ برسوں میں جسم اور چہرے کے لمفی راستوں کا مساج بھی شامل ہے۔

ڈاکٹر اور غذائی ماہرین اکثر خبردار کرتے ہیں کہ اس قسم کے تجارتی دعوؤں کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے، کیونکہ ان میں سے اکثر مضبوط سائنسی شواہد پر مبنی نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ انسانی جسم میں پہلے سے ایسے اعضا اور نظام موجود ہیں جو فاضل اور نقصان دہ مادوں کو خارج کرنے کا کام کرتے ہیں، جیسے گردے، جگر، پھیپھڑے اور مدافعتی نظام، جس میں لمفی نظام بھی شامل ہے۔

تو کیا صحت مند افراد کو ہاتھ سے لمفی نکاسی (لمفی ڈرینیج) کی ضرورت ہوتی ہے؟

پروفیسر بیلر کا کہنا ہے کہ ’ہاتھ سے کی جانے والی لمفی نکاسی کے کچھ اچھے فوائد ہو سکتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ایسی معیاری طبی تحقیقات کم ہیں جو واضح طور پر ثابت کریں کہ یہ فوائد براہِ راست اسی عمل کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ اسی لیے اس موضوع پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں اور بعض رائے بہت تنقیدی بھی ہیں۔ تاہم میں لمفی نکاسی کا حامی ہوں اور اسے لمفی نظام کے بہتر کام کرنے کے لیے مفید سمجھتا ہوں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ اگر کسی وجہ سے لمفی نظام پوری کارکردگی سے کام نہ کر رہا ہو تو اس کی کارکردگی بہتر بنانے سے فائدہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ابتدائی علامات میں جسم کے بافتوں میں آہستہ آہستہ ہلکی سوجن پیدا ہونا شامل ہے۔

دوسری جانب پروفیسر سوامی کا خیال ہے کہ اگر صحت مند افراد کو جسم کے کسی حصے میں سوجن محسوس ہو تو وہ خود بھی لمفی نکاسی کی تکنیک استعمال کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ’خود کی جانے والی لمفی نکاسی لمف کے بہاؤ کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے اور مقامی سوجن کو کم کرنے میں فائدہ پہنچا سکتی ہے۔‘

تاہم وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ یہ طریقہ اختیار کرنے سے پہلے لمفی نظام کی ساخت اور جسم میں لمفی نالیوں کے راستوں کے بارے میں درست معلومات ہونا ضروری ہے۔

Health
Getty Images

چہرے کے مساج کے آلات کا ’ٹرینڈ‘

مجھے پہلی بار گوا شا (Gua Sha) کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا جب میری نوعمر بیٹی نے مجھ سے اسے خریدنے کے لیے کہا۔ تب میں نے سوشل میڈیا پر بہت سی ویڈیوز دیکھیں جن میں بتایا جاتا تھا کہ اس آلے سے چہرے کا مساج کیسے کیا جاتا ہے۔ ان ویڈیوز میں دعویٰ کیا جاتا تھا کہ اس سے چہرے کی سوجن کم ہوتی ہے، جمع شدہ سیال خارج ہوتے ہیں، جلد کے ڈھلکنے میں کمی آتی ہے اور چہرہ زیادہ پتلا نظر آتا ہے۔

گوا شا چہرے کے مساج کا ایک روایتی چینی آلہ ہے جو جیڈ یا کوارٹز جیسے ہموار نیم قیمتی پتھروں سے بنایا جاتا ہے۔ یہ عموماً دل، کنگھی یا لہردار شکلوں میں ہوتا ہے۔ اسی طرح چہرے کے مساج کے لیے استعمال ہونے والا فیس رولر بھی انہی پتھروں سے تیار کیا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا نے اس رجحان کو تیزی سے مقبول بنانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ یہ ان صبح و شام کے بیوٹی روٹینز کا حصہ بن گیا ہے جو حالیہ برسوں میں چہرے کو زیادہ تروتازہ، جوان اور خوبصورت دکھانے کے لیے مقبول ہوئے ہیں۔

تو کیا ان آلات کے استعمال کے حق میں کوئی سائنسی بنیاد موجود ہے؟

پروفیسر بیلر کے مطابق، اگرچہ خوبصورتی کے ماہرین اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی جانب سے پیش کیے جانے والے بعض طریقوں کے حق میں مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں ہوتے، لیکن کچھ مساج تکنیکیں واقعی اہم ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مشاہداتی مطالعات اور عملی تجربات سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کون سے طریقے مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

ان کے مطابق چہرے، سر اور گردن پر مناسب انداز میں دباؤ ڈالنے سے خلیات اور بافتوں کی صحت بہتر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ان حصوں کی ظاہری حالت بھی بہتر ہو سکتی ہے، بشرطیکہ پہلے وہاں موجود نکاسی کے راستوں کو فعال کرنے کی کوشش کی جائے۔

وہ وضاحت کرتے ہیں کہ چہرہ، خاص طور پر ناک اور آنکھوں کے اردگرد کا حصہ، بہت متحرک ہوتا ہے کیونکہ یہاں چہرے کے تاثرات سے متعلق پٹھے موجود ہوتے ہیں۔ اسی لیے اس علاقے میں خون کی نالیاں نسبتاً زیادہ ہوتی ہیں اور اسے غذائی اجزا، آکسیجن اور دیگر ضروری عناصر کی مسلسل فراہمی کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ فاضل مادوں کا مؤثر اخراج بھی ضروری ہوتا ہے۔

ان کے مطابق جب چہرے، خاص طور پر آنکھوں اور ناک کے اردگرد کے حصوں، کا مختلف مساج آلات اور تکنیکوں کے ذریعے مساج کیا جاتا ہے تو ان علاقوں میں خون کی روانی بہتر ہو سکتی ہے، اور فاضل اور سوزش پیدا کرنے والے مادوں کے اخراج کا عمل بھی بہتر ہو سکتا ہے، جس سے جلد کی صحت اور ظاہری شکل پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔

تاہم پروفیسر بیلر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر شخص مختلف ہوتا ہے اور ہر ایک کا ردِعمل بھی مختلف ہو سکتا ہے۔ جو طریقہ ایک شخص کے لیے فائدہ مند ہو، ضروری نہیں کہ دوسرے کے لیے بھی اتنا ہی مؤثر ہو۔ اسی لیے وہ مشورہ دیتے ہیں کہ ایک وقت میں صرف ایک تبدیلی آزمائی جائے تاکہ اس کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے، اور لمفی نظام کے کردار کو سمجھتے ہوئے ایسے طریقے اپنائے جائیں جو اس کی قدرتی کارکردگی میں مدد دیں۔

ان کے الفاظ میں: ’ہاں، ان کمپنیوں کے دعوؤں کو ضرور دیکھیں جو یہ آلات فروخت کرتی ہیں، لیکن ساتھ ہی ان سائنسی شواہد کو بھی مدنظر رکھیں جو ان دعوؤں کی حمایت کرتے ہیں۔ دونوں کے درمیان توازن قائم کریں اور پھر فیصلہ کریں کہ آپ کے لیے کیا بہتر ہے۔‘

ہم لمفی نظام کو بہتر طریقے سے کام کرنے میں کیسے مدد دے سکتے ہیں؟

لمفی نظام کو صحت مند رکھنے کے لیے کسی خاص آلے یا ’ڈیٹاکس‘ مصنوعات کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ صحت مند روزمرہ عادات کافی ہوتی ہیں۔

پروفیسر بیلر مشورہ دیتے ہیں: ’صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں، مناسب لباس پہنیں، صحیح طریقے سے سانس لیں، اچھی نیند لیں، متوازن غذا کھائیں، جسمانی طور پر متحرک رہیں، سخت جسمانی سرگرمی کے بعد وارم اَپ اور کول ڈاؤن کی عادت اپنائیں، اور جسم میں ہونے والی کسی بھی تبدیلی پر توجہ دیں اور بروقت اقدام کریں۔‘

مثال کے طور پر، اچھی نیند دماغ کو اس میں جمع ہونے والے فاضل مادوں سے نجات دلانے میں مدد دیتی ہے۔ اگرچہ دماغ جسم کے وزن کا صرف تقریباً 2 فیصد ہوتا ہے، لیکن یہ جسم کی مجموعی توانائی کا 20 سے 25 فیصد استعمال کرتا ہے۔

اسی طرح گہری سانسیں لینا، خاص طور پر پیٹ کے ذریعے سانس لینا، ورزش کرنا اور متحرک رہنا جسم میں لمفی سیال کی روانی بہتر بناتا ہے اور سیال جمع ہونے کے امکانات کم کرتا ہے۔

پروفیسر بیلر کے مطابق بہت تنگ لباس، جیسے بعض برا یا زیرِ جامہ، پہننے سے بھی گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ لمفی رگوں پر دباؤ ڈال سکتے ہیں اور لمفی سیال کے بہاؤ کو متاثر کر سکتے ہیں۔

آخر میں، ایسا لگتا ہے کہ لمفی نظام ایک ایسا موضوع بن چکا ہے جہاں سائنسی تحقیق اور سوشل میڈیا کے صحت سے متعلق رجحانات ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ اگرچہ گوا شا جیسے آلات سے چہرے کا مساج عارضی طور پر ظاہری بہتری یا سوجن میں کمی لا سکتا ہے، لیکن جسم سے زہریلے مادوں کے اخراج یا چہرے کو مستقل طور پر تراشنے جیسے بڑے دعوؤں کے حق میں مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔

لہٰذا لمفی نظام کی صحت کو بہتر رکھنے کا سب سے مؤثر طریقہ وہی ہے جس کا ماہرینِ صحت ہمیشہ مشورہ دیتے ہیں: اچھی نیند، متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب سانس لینے کی عادت اور مجموعی طور پر صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US