گُلیستان کلیچ کوچ ییغیت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا اس نئے دفاعی فریم ورک کا رخ خطے کے دیگر ممالک، خصوصاً ایران، کے خلاف تو نہیں ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو معاہدے کے سیاسی اور عسکری مضمرات کے بارے میں زیادہ واضح انداز میں عوام اور پارلیمان کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
’اگر مستقبل میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو کیا ترکی بھی اس تنازع کا فریق بن جائے گا؟ ہم اچانک پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ کا حصہ کیوں بن رہے ہیں؟‘
یہ سوالات ترکی کی اپوزیشن رکنِ پارلیمان گُلیستان کلیچ کوچ ییغیت نے اس وقت اٹھائے جب جمعے کو ترک پارلیمان میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر بحث جاری تھی۔
گُلیستان کلیچ کوچ ییغیت ترکی کی کرد نژاد سیاست دان ہیں اور اس وقت پیپلز ایکولٹی اینڈ ڈیموکریسی پارٹی کی پارلیمانی گروپ ڈپٹی لیڈر ہیں۔ وہ صوبہ کارس سے رکنِ پارلیمان ہیں اور انسانی حقوق، جمہوریت، خواتین کے حقوق اور کرد برادری سے متعلق مسائل پر سرگرم آواز سمجھی جاتی ہیں۔
BBC World Service کی نئی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں، 'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔
ان کی تقریر نے مکہ دفاعی معاہدے کے بارے میں ترکی کے اندر جاری سیاسی بحث کو نمایاں کر دیا ہے۔
گُلیستان کلیچ کوچ ییغیت کا کہنا تھا کہ اگر مستقبل میں پاکستان اس معاہدے کے تحت فوجی مدد طلب کرتا ہے تو ترکی کسی ممکنہ جنگ یا بحران میں شامل ہونے کا فیصلہ کس طریقہ کار کے تحت کرے گا۔
ان کے مطابق ترک عوام اور پارلیمان نے ایسی ذمہ داریوں کی منظوری نہیں دی جس کے نتیجے میں ملک کسی بیرونی جنگ میں شامل ہو جائے۔
یاد رہے کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب یہ واضح کر چکے ہیں کہ اس معاہدے کا مقصد کسی جارحانہ اقدام کے خلاف اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے اور یہ کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔
ان معاہدے کے حوالے سے مختلف ممالک میں جاری بحث کے بعد لوگوں کے ذہنوں میں اس نوعیت کے سوالات نے جنم لیا ہے کہ اس معاہدے سے تینوں ممالک بالخصوص پاکستان کس طرح اور کس نوعیت کا فائدہ حاصل کر پائیں گے اور کیا واقعی کسی ایک ملک کے خلاف جارحانہ اقدام کے بعد دیگر دونوں ممالک بھی تنازع میں کود پڑیں گے؟
انھوں نے خبردار کیا کہ انقرہ، اسلام آباد اور ریاض کی سیاسی قیادت کے سٹریٹجک فیصلوں کی قیمت ترک نوجوانوں کو اپنی جانوں سے نہیں چکانی چاہیے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ترکی کو ایسی دفاعی ذمہ داریوں میں نہیں الجھنا چاہیے جو مستقبل میں اسے ایسے تنازعات کا حصہ بنا دیں جن کا اس کی قومی سلامتی سے براہِ راست تعلق نہ ہو۔
گُلیستان کلیچ کوچ ییغیت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا اس نئے دفاعی فریم ورک کا رخ خطے کے دیگر ممالک، خصوصاً ایران، کے خلاف تو نہیں ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو معاہدے کے سیاسی اور عسکری مضمرات کے بارے میں زیادہ واضح انداز میں عوام اور پارلیمان کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
ان اعتراضات کے باوجود ترکی کی پارلیمان نے چھ نومبر کو پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی۔ 600 رکنی پارلیمان میں یہ معاہدہ 119 کے مقابلے میں 279 ووٹوں سے منظور ہوا۔ واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب پہلے ہی اس معاہدے کی توثیق کر چکے ہیں۔
اس معاہدے کے تحت رکن ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدے کا مقصد اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانا، دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ لائحۂ عمل اختیار کرنا ہے۔
یہ دفاعی معاہدہ سات اگست کو مکہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوغان اور پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دستخط کر کے طے کیا تھا۔ معاہدے کے مطابق اتحاد کا سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا جبکہ ریٹائرڈ پاکستانی جنرل نعمان محمود کو اس کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا ہے۔
معاہدہ ابتدائی طور پر 10 سال کے لیے نافذ العمل ہو گا اور کسی بھی رکن ملک کو اس سے علیحدگی اختیار کرنے کے لیے تین ماہ قبل نوٹس دینا ہو گا۔

ترکی کی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس معاہدے کا مقصد کسی تیسرے ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ دفاعی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
پارلیمان کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین فواد اوکتائے نے معاہدے کی منظوری کے موقع پر کہا کہ ترکی کو اس کی مرضی کے خلاف کسی تنازع کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا اور بیرونِ ملک فوجی دستوں کی تعیناتی کے لیے آئندہ بھی پارلیمان کی علیحدہ منظوری درکار ہو گی۔
حکمران جماعت کے رکن ضیا آلتونیالدیز نے بھی معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے بنایا گیا ہے۔

تاہم اپوزیشن کے تحفظات صرف گُلیستان کلیچ کوچ ییغیت تک محدود نہیں رہے۔ رکنِ پارلیمان مرات امیر نے بحث کے دوران کہا کہ ’یہ معاہدہ ترک فوجیوں کو یمن کے صحرا میں بھیجنے کے لیے لایا گیا ہے۔‘ ان کا اشارہ یمن میں حوثی حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کو ممکنہ فوجی معاونت کی طرف تھا۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب ترکی میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مکہ دفاعی معاہدے پر سوال اُٹھائے گئے ہوں۔
خیال رہے کہ ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی نے گذشتپ ،اپ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی تھی جس کا مطلب ہے کہ معاہدے کے نفاذ کے لیے ضروری عمل کو مکمل کر لیا گیا ہے۔
یہ معاہدہ ترکی کو نیٹو سے باہر ایک نئے فوجی اتحاد میں شامل کرتا ہے جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی پر بھی بیرونی حملے کو تمام اتحادیوں پر حملے کے طور پر دیکھا جائے گا اور ایسی صورت میں اراکین ایک دوسرے کو فوجی مدد فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔
BBC World Service کی نئی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔
'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔
نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔