قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 77 گوجرانوالہ میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوگیا، جو مقررہ وقت تک جاری رہے گا۔ پولنگ کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
حلقہ این اے 77 میں مجموعی طور پر 5 لاکھ 18 ہزار 620 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، جن میں 2 لاکھ 77 ہزار 480 مرد اور 2 لاکھ 41 ہزار 140 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔
الیکشن کے لیے حلقے میں مجموعی طور پر 333 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، جن میں 142 مردوں، 137 خواتین جبکہ 54 مشترکہ پولنگ اسٹیشنز شامل ہیں۔ پولنگ اسٹیشن نمبر 64 بھی مرد و خواتین کے لیے مشترکہ طور پر قائم کیا گیا ہے۔
حلقہ این اے 77 کے ضمنی انتخاب میں 11 امیدوار میدان میں ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے راشد بشیر ورک، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے قاضی ابراہیم گجر اور پاکستان نظریاتی پارٹی کے طیب محمود سمیت الفت رسول وڑائچ اور منظور قادر بھنڈر آزاد حیثیت سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔
این اے 77 گوجرانوالہ کے شہری اور دیہی علاقوں پر مشتمل ہے، جس میں کینٹ، قلعہ دیدار سنگھ، لدھیوالہ وڑائچ، تلونڈی کھجور والی، راہوالی، شاہین آباد اور دیگر علاقے شامل ہیں۔
حلقے میں مختلف برادریوں کی نمایاں آبادی موجود ہے، جن میں جٹ، وڑائچ، ملک، کشمیری، راجپوت، ارائیں، گجر اور مہاجرین جموں و کشمیر شامل ہیں۔
واضح رہے کہ 2024 کے عام انتخابات میں این اے 77 سے مسلم لیگ (ن) کے محمود بشیر ورک بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد قومی اسمبلی کی نشست خالی ہوئی، جس پر مسلم لیگ (ن) نے مرحوم کے صاحبزادے راشد بشیر ورک کو امیدوار نامزد کیا ہے۔