پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار دیوالی روایتی جوش و خروش اور عقیدت کے ساتھ منا رہی ہے۔ اس موقع پر گھروں اور مندروں کو چراغوں اور روشنیوں سے سجایا گیا ہے، جبکہ خوشی کے اس تہوار پر مذہبی رسومات اور دیگر تقریبات کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے۔
دیوالی کو ہندو مذہب کے اہم ترین تہواروں میں شمار کیا جاتا ہے اور اسے روشنیوں کا تہوار بھی کہا جاتا ہے۔ اس تہوار کے موقع پر خاندان کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ خوشیاں بانٹتے، روایتی رسومات ادا کرتے اور گھروں کو چراغوں اور برقی قمقموں سے روشن کرتے ہیں۔ دیوالی کے موقع پر مبارکباد اور ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔
دیوالی کو دیپاولی اور عیدِ چراغاں کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس تہوار کا بنیادی تصور اندھیرے پر روشنی، جہالت پر علم، برائی پر اچھائی اور مایوسی پر امید کی فتح کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
لفظ دیپاولی سنسکرت کے دو الفاظ ’’دیپ‘‘ اور ’’آولی‘‘ سے مل کر بنا ہے، جس میں دیپ کے معنی چراغ اور آولی کے معنی قطار کے ہیں۔ یوں دیپاولی کے لغوی معنی چراغوں کی قطار کے بنتے ہیں۔
دنیا بھر میں مختلف مذاہب کے پیروکار اپنے مذہبی تہوار خصوصی عقیدت، خوشی، محبت اور خاندانی روایات کے ساتھ مناتے ہیں، جبکہ دیوالی بھی انہی اہم تہواروں میں شامل ہے جو روشنی، امید اور خوشیوں کا پیغام دیتے ہیں۔