طاقِ کسریٰ سے متاثر ڈیزائن، جدید ٹیکنالوجی اور ’خدا کے معمار‘ کا خواب: دنیا کا بلند ترین چرچ کیسے تعمیر ہوا؟

بارسلونا کے ساگرادا فامیلیا چرچ کی تعمیر میں معمار انتونی گاؤڈی نے عراق کے تاریخی طاقِ کسریٰ سے متاثر ہو کر زنجیری محراب کے اصول اپنائے۔ ان کی وفات کے تقریباً ایک صدی بعد جدید انجینیئرنگ اور تعمیراتی تکنیکوں کی مدد سے یہ منصوبہ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ چرچ کی تعمیر ابھی نامکمل ہے اور اس کی نگرانی کے لیے ڈرونز اور مصنوعی ذہانت استعمال کی جا رہی ہے۔
AFP via Getty Images
AFP via Getty Images

جون سنہ 1926 میں پھٹے پرانے کپڑے پہنے ایک عمر رسیدہ شخص چرچ جانے کے لیے سڑک پار کر رہا تھا کہ ایک ٹرام نے اسے ٹکر مار دی۔ چند روز بعد اس نے غریبوں کے لیے مخصوص ایک ہسپتال میں دم توڑ دیا۔

یہ شخص انتونی گاؤڈی تھے، جنھیں بعد میں ’خدا کا معمار‘ کے نام سے شہرت ملی۔

گاؤڈی اپنے پیچھے ایک عظیم تعمیراتی منصوبہ نامکمل چھوڑ گئے۔ ان کی وفات کے وقت سپین کے شمال مشرقی شہر بارسلونا میں واقع مشہور اور بلند و بالا ساگرادا فامیلیا چرچ کی تعمیر جاری تھی۔

BBC World Service کی نئی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں، 'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔

دور سے دیکھنے پر یہ چرچ بارسلونا کے افق پر کسی دیو قامت اور زندہ وجود کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ جوں جوں آپ اس کے قریب جاتے ہیں، یہ کسی جاندار سے زیادہ مشابہ نظر آنے لگتا ہے۔ اس کے حیرت انگیز اور باریک نقش و نگار سے مزین بیرونی حصوں پر بائبل کے واقعات اس انداز میں دکھائی دیتے ہیں جیسے یہ نقش چٹانوں کے اندر سے خود بخود اُبھر آئے ہوں۔

ابتدا ہی سے ساگرادا فامیلیا کی تعمیر کا منصوبہ اس طرح بنایا گیا تھا کہ گاؤڈی کی وفات کے طویل عرصے بعد بھی یہ کام جاری رہا، تاہم ان کے نقشِ قدم پر چلنے والوں کو اس منصوبے کی تکمیل میں انتہائی مشکل چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔

سنہ 1936 میں ہسپانوی خانہ جنگی کے دوران گاؤڈی کے تعمیراتی نقشے اور ماڈلز تباہ ہو گئے، جس کے باعث ان کے جانشینوں کے پاس بہت کم تعمیراتی مواد اور دستاویزات باقی رہ گئیں۔ ایک وقت میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ چرچ کے بلند و بالا مینار اپنی بنیادوں کے لیے بہت زیادہ بھاری اور بلند ہیں اور تیز ہواؤں کے باعث انھیں نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی ہے۔

تاہم، ان کی وفات کے تقریباً ایک صدی بعد چرچ کا مرکزی مینار، یعنی ’ٹاور آف جیزس کرائسٹ‘ 172.5 میٹر کی بلندی کے ساتھ مکمل ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساگرادا فامیلیا دنیا کے بلند ترین چرچ کا اعزاز حاصل کر چکا ہے۔

قدیم طرزِ تعمیر سے رہنمائی

گاؤڈی کے سوانح نگار اور تاریخِ فن کے ماہر کیس فان ہنسبرخن کے مطابق، یہ نوجوان معمار انتہائی بلند عزائم رکھنے والا اور کیتھولک مذہب کا پختہ عقیدہ رکھنے والا شخص تھا، جس کے دو بنیادی مقاصد تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ گاؤڈی کا پہلا مقصد بائبل کے واقعات کو ایک نئے انداز میں پیش کرنا تھا، جس کی مثال ساگرادا فامیلیا میں دیکھی جا سکتی ہے۔ تاہم، ان کا دوسرا مقصد اپنے سے پہلے کے فنِ تعمیر کی تمام خامیوں کو دور کرنا تھا۔

اس مقصد کے لیے انھیں قدیم دنیا کے ایک حیرت انگیز تعمیراتی شاہکار کی طرف دیکھنا پڑا۔ یہ عراق کے موجودہ علاقے میں قدیم شہر تیسفون میں واقع طاقِ کسریٰ تھا، جو زنجیری محراب کہلانے والے ایک انتہائی مضبوط اور مستحکم تعمیراتی ڈھانچے کی ابتدائی اور نمایاں مثال ہے۔

گاؤڈی کو یقین تھا کہ زنجیری محراب کی مدد سے وہ اپنے دور کے گرجا گھروں اور بڑے گرجا گھروں کی تعمیر میں موجود ایک ایسی خامی دور کر سکتے ہیں جو انھیں کھٹکتی تھی۔

بڑے نوگوتھک گرجا گھروں میں محرابی چھتوں کا وزن برداشت کرنے کے لیے بیرونی پشتے بنائے جاتے تھے۔ یہ پتھر کے بازو نما ڈھانچے دیواروں کے بالائی حصوں سے باہر نکلتے اور نیچے کی سطحوں تک پھیلے ہوتے تھے۔ گاؤڈی ان ڈھانچوں کو ایسی عمارت کی ’بیساکھیاں‘ قرار دیتے تھے جو اپنے پیروں پر خود کھڑی نہیں ہو سکتی۔

اس طریقے کے بجائے گاؤڈی نے چرچ کے 18 میناروں کا ڈیزائن زنجیری محراب کے اصول پر تیار کیا۔ اس طریقۂ تعمیر سے متاثر ہو کر انھوں نے ایسے میناروں کا تصور پیش کیا جو اپنا وزن خود برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

فان ہنسبرخن کے مطابق ’گاؤڈی کو بلاشبہ ریاضی سے گہری دلچسپی تھی، لیکن وہ اس دلچسپی کو ہمیشہ خدا کی تخلیق کے تناظر میں دیکھتے تھے۔ گاؤڈی کا ماننا تھا کہ کششِ ثقل اور زنجیری محراب دونوں قدرت کی عطا کردہ تخلیقات ہیں۔‘

فان ہنسبرخن کہتے ہیں کہ ’گاؤڈی کے نزدیک یہ تصور ان کے فنِ تعمیر کا ایک مرکزی اور نہایت خوبصورت موضوع بن سکتا تھا، جو اس خیال کی طرف ایک لطیف اشارہ تھا کہ خدا اس کائنات کا سب سے بڑا معمار ہے۔‘

عمارتوں کے ڈھانچوں اور ان پر اثر انداز ہونے والی طبعی قوتوں کے بارے میں علم بڑھنے کے ساتھ گاؤڈی کا اعتماد بھی بڑھتا گیا۔ اس کے نتیجے میں انھوں نے چرچ کے ڈیزائن سے ایسے محرابوں اور تعمیراتی حصوں کو نکالنا شروع کر دیا جو عمارت کو مضبوط رکھنے کے لیے ضروری نہیں تھے۔

عالمی انجینیئرنگ کمپنی ’ایروپ‘ سے وابستہ اور ساگرادا فامیلیا کے تعمیراتی منصوبے پر کام کرنے والی ایک ٹیم کے سربراہ، ماہرِ تعمیراتی ڈھانچہ لیام ڈف کہتے ہیں کہ ’گاؤڈی نے اس عبادت گاہ کا ڈیزائن تین مرتبہ تبدیل کیا تھا۔‘

گاؤڈی نے چرچ کے مرکزی حصے، جسے ’نیف‘ (شبستان) کہا جاتا ہے، میں شاخوں کی شکل کے ستون بنائے۔ قدرتی ساخت سے متاثر ہو کر تیار کیے گئے یہ ستون درختوں سے مشابہ تھے، جن کی شاخیں اوپر کی جانب پھیلتی تھیں تاکہ چھت اور اس کے اوپر موجود میناروں کا وزن برداشت کر سکیں۔

جب آپ چرچ کے اس مرکزی حصے میں کھڑے ہوتے ہیں اور مغربی سمت کی رنگین شیشوں والی کھڑکیوں سے نارنجی اور سرخ روشنی اندر آتی ہے تو درختوں جیسے یہ ستون عمارت کے اندر ایک بے وزنی اور ہلکے پن کا احساس پیدا کرتے ہیں۔

بھاری بھرکم مینار

میناروں کے ڈیزائن کو سادہ اور مؤثر رکھنے کے باوجود ان میں سے ایک بلند ترین مینار کی تعمیر کے دوران ایک بڑا مسئلہ سامنے آیا اور وہ یہ کہ اس کا وزن ضرورت سے کہیں زیادہ تھا۔

مریم مقدس کا مینار 138 میٹر بلند ہے اور 172.5 میٹر بلند مرکزی مینار، یعنی حضرت عیسیٰ کے مینار کے بعد اس عمارت کا دوسرا بلند ترین مینار ہے۔

جب مریم مقدس کے مینار کی تعمیر جاری تھی تو معلوم ہوا کہ اگر روایتی طریقے سے پتھر چن کر یا پتھر کی تہہ چڑھا کر مسلح کنکریٹ استعمال کیا جائے تو اس کے نیچے موجود ستون اس کا وزن برداشت نہیں کر سکیں گے۔

اس مسئلے کے حل کے لیے ایک تجویز یہ تھی کہ مینار کے اندر فولاد کا ڈھانچہ بنایا جائے اور اسے کنکریٹ کی نسبتاً پتلی تہوں سے ڈھانپ دیا جائے تاکہ عمارت پر پڑنے والا بوجھ کم کیا جا سکے۔ اس منصوبے پر کام کرنے کے لیے ساگرادا فامیلیا کے منتظمین نے سنہ 2014 میں برطانوی انجینیئرنگ کمپنی ’ایروپ‘ کے ماہرینِ تعمیراتی ڈھانچہ سے تعاون کی درخواست کی۔

ایروپ کے ماہرِ تعمیراتی ڈھانچہ سٹیو مک‌کچنی، جو منصوبے کے ابتدائی مراحل سے اس کا حصہ تھے کہتے ہیں کہ ’ساگرادا فامیلیا ایک غیر معمولی عمارت ہے۔ اس طرح کے منصوبے کا حصہ بننا ایسا ہے جس کا انسان صرف خواب دیکھ سکتا ہے اور اچانک ہمیں یہ موقع مل گیا۔‘

ایروپ کے انجینیئرز نے مینار کے وزن کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ایک جرات مندانہ تجویز پیش کی۔

انھوں نے فولاد کے ڈھانچے اور مسلح کنکریٹ کو مکمل طور پر ترک کرنے کا مشورہ دیا۔ اس کے بجائے انھوں نے پتھر کی نسبتاً پتلی تہہ استعمال کرنے کی تجویز دی، جسے اس کے اندر نصب فولادی تاروں کی مدد سے تناؤ اور دباؤ کے تحت مضبوط بنایا جانا تھا۔ یہ طریقہ گاؤڈی کے ابتدائی منصوبے سے خاصا مختلف تھا۔

مک‌کچنی کہتے ہیں کہ ’یہ ایک بہت بڑی تبدیلی تھی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ہمیں لگنے لگا کہ شاید اب منصوبے کو ہماری خدمات کی ضرورت نہیں رہی اور کام تقریباً خاموشی کا شکار ہو گیا۔‘

تاہم، مک‌کچنی کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے بعد میں یہ صورتِ حال بدل گئی۔

پتھر کی پیشگی تناؤ والی تہوں کے استعمال کا بنیادی اصول یہ ہے کہ دباؤ پڑنے پر پتھر انتہائی مضبوط ہو جاتا ہے، لیکن اس کے برعکس اگر اسے کھینچنے کی کوشش کی جائے تو تناؤ کے باعث اس میں آسانی سے دراڑیں پڑ سکتی ہیں اور وہ اپنی مضبوطی کھو دیتا ہے۔

جب ہوا کسی مینار سے ٹکراتی ہے اور اسے پیچھے کی جانب دھکیلتی ہے تو مینار کا ہوا کی سمت والا حصہ کھنچاؤ کا شکار ہوتا ہے۔ اس کھنچاؤ کے نتیجے میں پتھر کے ڈھانچے میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں اور اسے نقصان پہنچ سکتا ہے۔

زنجیری محراب کی ساخت مینار کے اپنے وزن کو استعمال کرتے ہوئے پتھر کو دباؤ کی حالت میں رکھتی ہے۔ تاہم، ایسی پتھریلی تہوں کا استعمال جن کے اندر فولادی تاریں نصب کر کے پہلے ہی سے تناؤ پیدا کیا گیا ہو اس دباؤ کو مزید بڑھاتا اور ڈھانچے کو مضبوط بناتا ہے۔

اس ڈیزائن کے نتیجے میں تیز ہوا چلنے کے باوجود مینار کے ہوا کی سمت والے حصے پر بہت کم کھنچاؤ پڑتا ہے۔

مینار کے بالائی حصوں اور کھڑکیوں کے درمیان نصب فولادی تاروں نے بھی ان حصوں کو پہلے سے دباؤ کی حالت میں رکھنے میں مدد دی جہاں بصورتِ دیگر دراڑیں پڑنے کا خدشہ تھا۔ یہ اس لیے بھی اہم تھا کہ گاؤڈی کے ڈیزائن میں بڑی تعداد میں کھڑکیاں شامل تھیں، جن کے ذریعے روشنی چرچ کے نچلے حصے تک پہنچتی تھی۔

مریم مقدس کا مینار اور مرکز میں واقع پانچ دیگر مینار، جن میں حضرت عیسیٰ مسیح کا مینار بھی شامل ہے اسی پیشگی تناؤ والی پتھریلی تہوں کی تکنیک سے تعمیر کیے گئے ہیں۔

فان ہنسبرخن کا خیال ہے کہ گاؤڈی جدید ٹیکنالوجی کی جانب سے فراہم کیے گئے امکانات دیکھ کر واقعی بہت خوش ہوتے۔

گاؤڈی نے اپنی زندگی میں بھی چرچ کے ’نیٹیویٹی فساڈ‘ (حضرت عیسیٰ کی ولادت کے واقعات کی عکاسی کرنے والے بیرونی حصے) میں واقع سینٹ برنابا کے مینار پر تعمیر کے مختلف طریقے آزمائے تھے۔

انھوں نے اس مینار کی تعمیر نیچے سے شروع کی اور اس کے لیے بارسلونا کے قریب واقع پہاڑ مونٹجوئیک سے نکالا گیا ریتلا پتھر استعمال کیا۔ اس پتھر کا رنگ مختلف حصوں میں ہلکے سرمئی سے خاکی، سبز، زردی مائل بھورا، سنہری، جامنی اور سرخ رنگ میں بدلتا ہے۔ تاہم، مینار کے بالائی حصوں میں انھوں نے پورٹلینڈ سیمنٹ استعمال کرنا شروع کر دیا۔

لیام ڈف کہتے ہیں کہ ’اس زمانے میں بارسلونا کے لیے یہ بالکل نیا تعمیراتی مواد تھا۔‘

گاؤڈی کے یہ تجربات کامیاب ثابت ہوئے۔ ساگرادا فامیلیا کے ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبے کے سربراہ فرنینڈو ویا کہتے ہیں کہ ’گاؤڈی کے دور میں کی گئی تعمیرات کا معیار واقعی حیران کن ہے۔‘

وہ چرچ جس کی تعمیر ابھی مکمل نہیں ہوئی

گاؤڈی کی وفات کی صد سالہ برسی کی تقریبات میں پوپ لیو چہاردہم سمیت اہم شخصیات کی شرکت کے باوجود چرچ کی تعمیر ابھی تکمیل سے بہت دور ہے۔ اس کے جن حصوں کی تعمیر ابھی باقی ہے، ان میں چرچ کا مرکزی بیرونی حصہ بھی شامل ہے، جسے ’گلوری فساڈ‘ کہا جاتا ہے۔

چرچ کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد بھی اس کی دیکھ بھال میں جدید ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔ فرنینڈو ویا کے مطابق ہوا، درجہ حرارت میں تبدیلی اور وقت کے ساتھ عمارت کی بتدریج حرکت کے باعث چرچ کے اندرونی اور بیرونی حصوں میں موجود دراڑیں مزید پھیل سکتی ہیں۔

ماضی میں ساگرادا فامیلیا کی عمارت میں دراڑوں اور دیگر نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے کوہ پیماؤں کی مدد لی جاتی تھی اور چرچ کے تمام حصوں کا مکمل معائنہ کرنے میں دو سال لگتے تھے۔ تاہم، اب ان دراڑوں کی نشاندہی کے لیے ڈرونز اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کیا جا رہا ہے جن کی مرمت یا دیکھ بھال ضروری ہو۔

ویا کہتے ہیں کہ ’مصنوعی ذہانت کی تربیت مکمل ہونے کے بعد ہم صرف ایک ماہ میں پورے چرچ کا سکین کر سکیں گے۔‘

ساگرادا فامیلیا محض پتھروں سے بنی کوئی بے جان یادگار نہیں بلکہ یہ ایک زندہ وجود کی طرح قدرتی عناصر کے اثرات پر ردِعمل ظاہر کرتی ہے۔ ویا کے مطابق عمارت میں مسلسل ہونے والی یہ تبدیلیاں اور اس کی متحرک ساخت گاؤڈی کے اس تعمیراتی نظریے کی عکاسی کرتی ہیں جس میں انھوں نے فطرت کو بنیادی اہمیت دی تھی۔

BBC World Service کی نئی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔

'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔

نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US