پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کی پولیس نے نجی ٹی وی چینل کی اینکر ربیعہ احسن کے گھر میں قتل کے واقعے کا مقدمہ ان کے بھائی خرم کی مدعیت میں تھانہ صدر بیرونی میں دفعہ 302 کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کی پولیس نے نجی ٹی وی چینل کی اینکر ربیعہ احسن کے گھر میں قتل کے واقعے کا مقدمہ ان کے بھائی خرم کی مدعیت میں تھانہ صدر بیرونی میں دفعہ 302 کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ کے بھائی خرم نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انھیں فون پر اطلاع دی گئی کہ ربیعہ احسن کو ان کے شوہر نے گولی مار دی ہے۔ مدعی کے مطابق جب وہ موقع پر پہنچے تو ان کی بہن خون میں لت پت پڑی تھیں اور وہ فوت ہو چکی تھیں۔
دوسری جانب پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں واقعے کے مختلف پہلو سامنے آئے ہیں۔ مقامی پولیس کے مطابق ربیعہ احسن کی تقریباً 14 سال قبل احسن نامی شخص سے شادی ہوئی تھی اور ابتدائی معلومات کے مطابق اہل خانہ، بیٹیوں، بہن اور والدہ نے میاں بیوی کے درمیان کسی قسم کی ناچاقی یا گھریلو تنازع کی نشاندہی نہیں کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ موسم کی تبدیلی کے باعث گھر میں گرمیوں کے کپڑے الماری میں رکھتے اور سردیوں کے کپڑے نکالتے وقت ایک 30 بور پستول کپڑوں میں سے نکلا۔ گھر میں موجود ایک گھریلو ملازم کے ابتدائی بیان کے مطابق شوہر پستول ہاتھ میں لیے ہوئے تھا کہ اس دوران گولی چل گئی۔
تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تاحال گھر کے کسی فرد نے میاں بیوی کے درمیان جھگڑے یا اختلافات کے حوالے سے بیان نہیں دیا، اس کے باوجود واقعے کی تحقیقات قتل کے مقدمے کے تناظر میں کی جائیں گی اور تمام ممکنہ محرکات کا جائزہ لیا جائے گا۔
ادھر ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ربیعہ احسن کو سامنے کی جانب گردن کے نچلے حصے میں گولی لگی تھی، جو ان کی موت کا سبب بنی۔
آغاز میں پولیس نے ایک بیان میں صرف اتنا بتایا تھا کہ ربیعہ احسن کی لاش اڈیالہ روڈ پر واقع علاقے گلشن آباد میں ان کے گھر کے ایک کمرے سے برآمد کی گئی ہے جس پر گردن کے نیچے گولی لگنے کا نشان موجود ہے۔
پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے ملنے والا 30 بور پستول بظاہر بغیر لائسنس ہے۔ واقعے سے متعلق فرانزک شواہد اور نمونے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں جبکہ فرانزک رپورٹ موصول ہونے کے بعد مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کو آگے بڑھایا جائے گا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا رہا ہے اور حتمی نتیجہ فرانزک، پوسٹ مارٹم اور تفتیشی شواہد کی روشنی میں سامنے آئے گا۔
سی پی او راولپنڈی نے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا کو بتایا کہ ’خاتون کو گردن کے نیچے گولی لگی ہے۔ ان کی شناخت ربیعہ احسن کے نام سے ہوئی ہے۔ وہ ایک نجی ٹی وی چینل کی پروگرام ہوسٹ ہیں۔‘
ایکس پر پنجاب کی وزیر اطلاعات اعظمیٰ بخاری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تفتیش کے دوران ربیعہ احسن کے شوہر نے پولیس کے سامنے یہ دعویٰ کیا کہ بندوق سے گولی ’حادثاتی طور پر چلی۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کی ٹیمیں جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر رہی ہیں جبکہ تحقیقات اور قانونی کارروائی جاری ہے۔
41 سالہ ربیعہ احسن چینل 92 سے منسلک تھیں جہاں وہ صحافی عامر متین کے ساتھ پروگرام ’مقابل‘ کی میزبان تھیں۔ چینل 92 کے نامہ نگار ساجد شیخ کے مطابق ربیعہ احسن نے گذشتہ دنوں بھی اپنے پروگرام کی میزبانی کی تھیں۔ وہ دو بیٹیوں کی ماں تھیں۔
’انصاف ضرور ہونا چاہیے‘
ایکس پر صحافی فریحہ ادریس نے لکھا کہ انھیں ربیعہ احسن کی موت کی خبر سن کر ’شدید صدمہ اور گہرا دکھ ہوا‘ ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ربعیہ ’ایک باصلاحیت اینکر، ساتھی اور دو بچوں کی ماں تھیں۔ وہ بہت جلد ہم سے بچھڑ گئیں۔‘
’میری دلی ہمدردیاں ان کے بچوں، اہلِ خانہ اور تمام عزیزوں کے ساتھ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبر عطا کرے۔ انصاف ضرور ہونا چاہیے۔‘
صحافی زیب النسا برکی نے ایکس پر ایک پیغام میں لکھا کہ ایک اور دن، ایک اور خاتون اپنے ہی گھر میں قتل کر دی گئی۔‘
شاکر عباسی نے لکھا کہ ’مجھے یہ جان کر گہرا دکھ ہوا کہ ہماری سابق ساتھی اور اینکر پرسن رابعہ احسن اب ہمارے درمیان نہیں رہیں۔
’اس واقعے کی تفصیلات ابھی زیرِ تفتیش ہیں۔‘
BBC World Service کی نئی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔
'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔
نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔