قرآن مجید کی ایک آیت نے کس طرح ہندو بزنس مین کی تقدیر بدلی؟

image

“مجھے کاروبار میں بہت نقصان ہوا تھا اور میں کسی طرح سب کچھ ٹھیک کرنے کے لئے محنت کررہا تھا۔ وہ بہت مایوسی بھرے دن تھے“

یہ الفاظ ہیں بھارت سے تعلق رکھنے والے بزنس مین پوٹھان ندووکت مینن کے جو کیرالہ میں پیدا ہوئے۔ پی این سی مینن کے نام سے مشہور ہونے والا یہ شخص عمان کے ایک کامیاب بزنس مین ہیں اور سوبھا ڈیویلپرز لمیٹڈ کے بانی اور چئیر مین ہیں۔

اللہ پر یقین ہے

پی این سی مینن اگرچہ ہندو ہیں لیکن وہ اللہ کو مانتے ہیں۔ پی این سی مینن نے خلیج ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنی زندگی میں اسلام اور قرآن سے جڑا ایسا واقعہ سنایا جسے سن کر دل بے اختیار اللہ کے حضور سجدہ کرنے کو چاہتا ہے۔

دوست نے قران مجید کا طغرا دیا اور کہا گھر میں لگاؤ

مینن کہتے ہیں کہ جب وہ بہت مایوس تھے تب ان کے دوست اور بزنس پارٹنر سلیمان العدوی نے انھیں قرآن مجید کا ایک کڑھائی والا طغرا دیا اور کہا کے یہ مقدس قرآنی آیت ہے اسے اپنے گھر کے باہر لگا لو۔ مینن نے اپنے دوست کی بات مانتے ہوئے آیت گھر میں لگا لی۔ مینن کہتے ہیں کہ “جیسے ہی میں نے آیت اپنے گھر میں لگائی سب کچھ جادو کی طرح ٹھیک ہوگیا۔

آیت کا مفہوم

پی این سی مینن کو دی جانے والی آیت سورہ آل عمران کی آیت تھی جس کا مطلب ہے “اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا، لیکن اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے؟ اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے“

گھر، دفتر اور بچوں کے گھر میں بھی یہ آیت رکھی ہے

پی این سی مینن کہتے ہیں “میں ہمیشہ یہ آیت اپنی جیب میں رکھتا ہوں اس سے مجھے سکون اور راحت ملتی ہے“ اتنا ہی نہیں بلکہ یہ آیت مینن کے تمام گھروں اور دفاتر میں لگی ہے اس کے علاوہ ان کے بیٹے، بیٹیوں کے گھر میں بھی قران مجید کی آیتیں سجائی گئی ہیں۔

آیت کا رخ قبلے کی جانب رکھتے ہیں

سب سے اہم بات یہ ہے کہ مینن نے احترام میں قرآنی آیت کا رخ خانہ کعبہ کی جانب رکھا ہے کیونکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ یہ قبلہ ہے اور مسلمان اسی جانب رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں۔

اللہ اپنے بندوں کو کبھی نہیں بھولتا

پی این سی مینن کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ بے شک انسان اپنے رب کو بھول بھی جائے لیکن رب اپنے بندوں کو کبھی نہیں بھولتا اور جو بندہ اس کی جانب ایک قدم بڑھائے اللہ اسے اپنی امان میں لے لیتا ہے۔


WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.