فرشتے آسمانوں پر ہوتے ہیں ۔۔ کیا واقعی یہ فرشتے ہیں جس کی تصویر ناسا نے بھی دے دی؟ جانیے دلچسپ معلومات

image

ناسا خلاء میں موجود ایسی چیزوں کے بارے میں انسانوں کو حیران کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ہے جس کے بارے میں انسان سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ناسا کی ایک ایسی ہی تحقیق سے متعلق بتائیں گے۔

ناسا کی جانب سے ایک تصویر 26 اپریل 2022 کو اپلوڈ کی گئی جس میں لکھا گیا تھا کہ فرشتے کا پر خلاء میں دیکھا گیا ہے، عام طور پر فرشتوں سے متعلق ہمارا خیال یہی ہے کہ یہ بڑے بڑے، سفید رنگ سے مشابہت رکھنے والے خوبصورت ہوتے ہیں۔

اس تصویر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ خلاء میں موجود سفید رنگ کا پر جو کہ انتہائی خوبصورت معلوم ہو رہا ہے اور سیاہ رنگ کا بیک گراؤنڈ اس پر موجود دلچسپ روشنیاں اس پر کو مزید خوبصورت بنا رہی ہے۔

خلاء میں ہونے والے اس خوبصورت منظر نے نہ صرف ناسا کی توجہ حاصل کی بلکہ سوشل میڈیا صارفین کو بھی اس منظر کو تکنے پر مجبور کر دیا۔

لیکن ساتھ ہی ناسا نے لکھا کہ فرشتے کا یہ پر معلوم ہونے والے اس منظر میں دراصل دو کہکشاں اپنا جلوہ دکھا رہی ہیں، دونوں کہکشاں کشش کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب آ گئیں جس کے بعد منظر کچھ یوں معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے پر ہو، اور یہ ویڈیو کی صورت میں کہکشاں چکر بھی لگا رہی تھیں۔

یہ منظر خلاء میں اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دو کہکشاں آپس میں کشش کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب آ جاتی ہیں، ان کے قریب آنے کی وجہ سے مختلف قسم کا منظر دیکھنے کو ملتا ہے کبھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے کا پر ہو تو کبھی یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کہ دو روحیں آپس میں مل رہی ہوں۔

بعدازاں یہی زراعت بلیک ہول کے بننے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں، بلیک ہول ایک بیری کے درخت کی شیپ کا ہوتا ہے، جس کے بارے میں قرآن کی سورہ نجم میں بھی بیری کے درخت سے تشبیہہ دے کر بیان کیا گیا ہے، واضح رہے سورہ نجم ستاروں سے متعلق ہے۔

اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ساتویں آسمان پر ایک درخت موجود ہے جو کہ بلیک ہول ہوتا ہے دراصل، کیونکہ بلیک ہول کی بناوٹ بیری کے درخت جیسی ہے۔ بلیک ہول ایک پراسرار جگہ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے دوسری جانب ایک نئی کائنات آباد ہے۔


WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.