کینسر نے بدل کر رکھ دیا ۔۔ مشہور ترک شیف نے خانہ کعبہ سے نئی زندگی شروع کر لی

image

سوشل میڈیا پر ایسی کئی شخصیات کی ویڈیوز موجود ہیں، جو کہ اپنے منفرد انداز اور صلاحیتوں کی بنا پر سب کی توجہ تو حاصل کر ہی لیتے ہیں، تاہم مقبول بھی ہو جاتے ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو مشہور ترکش شیف براک اوزدمیر کے بارے میں بتائیں گے۔

براک سوشل میڈیا پر اپنی خوبصورت اور معصوم مسکراہٹ کے ساتھ دنیا بھر کے منفرد اور دلچسپ کھانوں کو بناتے ہوئے ویڈیوز اپلوڈ کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ان کے چاہنے والوں، دیکھنے والوں کی تعداد 10 لاکھ سے زائد ہے۔جبکہ ان صارفین ان کی ویڈیوز کو اس لیے بھی پسند کرتے ہیں کیونکہ کھانے کی ترکیب تو بتائی ہی جاتی ہے ساتھ ہی ثقافتی رنگ بھی نمایاں ہوتا ہے۔

جس کی بنا پر ان کی ویڈیوز کو صارفین بے حد پسند کرتے ہیں، ترکش کباب ہو یا پھر دمپخت، یا پھر ایشیاء کی کوئی بھی ڈش، براک نے سوشل میڈیا پر اپنی صلاحیتوں کی بنا پر توجہ سمیٹی۔

اور پھر یہ بات بھی کافی دلچسپ ہے کہ سماجی کاموں میں بھی براک نے سب کے دل جیت لیے، ان کی سماجی ٹیم نے افریقہ کے ان لوگوں کو جو بھوک و پیاس میں مبتلا تھا، ان کے لیے نہ صرف تحائف لے کر گئے بلکہ ساتھ ہی ان کے لیے لائیو ککنگ کی۔ دوسری جانب پاکستان کے دورے پر براک نے سماجی کامون میں خوب اپنا حصہ ڈالا۔ اس تصویر میں بھی ان کی خدمات کو دیکھا جا سکتا ہے۔

جس نے صارفین کے خوب دل جیتے اور اس طرح براک دنیا بھر میں مشہور ہو گئے یہاں تک کہ بھارتی اداکاری عروشی، دبئی کے شیخ ہمدان، مشہور فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو سمیت کئی مشہور شخصیات نے ان کے ساتھ تصاویر بنائی اور ان کے کھانوں کو پسند کیا۔

لیکن اچانک اس خبر نے بھی سب کو افسردہ کر دیا جب ہر وقت مسکرانے والا براک برین ٹیومر کا شکار ہوا۔ ہنستا مسکراتا چہرا جو ہر ایک کے کام آتا تھا، آج تکلیف میں تھا۔ لیکن اس سب میں بھی براک نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی بیماری سے لڑنے کا ارادہ کیا، یہی وجہ ہے کہ بیماری کے بعد سوشل میڈیا پر ایک تصویر اپلوڈ کی۔

جس میں براک خانہ کعبہ میں موجود ہیں، ساتھ ہی باڈی لینگوج اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے، کہ اب ان کی نئی زندگی شروع ہو گئی ہے، ایک نیا عزم، ایک نیا جذبہ لیے براک نے اس نئی زندگی کی شروعات خانہ کعبہ سے کی ہے۔

اگرچہ جسمانی طور پر برین ٹیومر یا کینسر نے انہیں کافی کمزور کر دیا ہے، لیکن اس کے باوجود ان کے ہمت، عزم اور حوصلے میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔


مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.