تنازعات ۔۔ جھگڑے ۔۔ الزامات ۔۔ اور جنرل باجوہ چلے گئے

image

پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ آج کمانڈ اسٹک نئے فوجی کمانڈر جنرل عاصم منیر کو سونپ کر پاک فوج کی قیادت سے سبکدوش ہوگئے ہیں، مذہبی تنازعات اور بے شمار چیلنجز کے دوران پاک فوج کی قیادت کی ذمہ داری سنبھالنے والے جنرل قمر جاوید باجوہ کا 6 سالہ دور نہایت ہنگامہ خیز رہا۔

راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کی کمان سنبھالی تو ملک میں سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران جاری تھا اور ایسے میں وزیراعظم نوازشریف کی وزارت عظمیٰ سے بے دخلی نے ملکی مسائل کو مزید گمبھیر کردیا۔

نوازشریف گلی گلی مجھے کیوں نکالا مجھے کیوں نکالا کی صدائیں لگاتے رہے لیکن کسی نے ایک نہ سنی، نوازشریف نے پہلے ڈھکے چھپے اور پھر کھلم کھلا جنرل باجوہ اور دیگر عسکری قیادت کو الزامات کا نشانہ بنایا لیکن عسکری قیادت نے ان کے الزامات کو سنجیدہ نہیں لیا۔

2018 کے عام انتخابات کے بعد تحریک انصاف پہلی بار اقتدار میں آنے میں کامیاب ہوگئی، یہ وہ دور تھا جب سب ایک پیج پر تھے ورنہ اس سے پہلے کبھی کسی حکومت کو اتنا اچھا گراؤنڈ نہیں ملا لیکن عمران خان کی بے جا فرمائشوں اور ناجائز مطالبات نے عسکری قیادت کو نیوٹرل کردیا۔

کرکٹ میں نیول ٹرل امپائرز کا کریڈیٹ لینے والے عمران خان نے فوج کے نیوٹرل ہونے پر دہائیاں بھی دیں، پرانے تعلقات کے واسطے اور طعنے بھی دیئے، روئے بھی اور بال بھی نوچے اور ایمی ورک کی طرح گانے بھی گائے (جے ہن توں ویں بدل گیا میں تے مر ہی جاواں گی)۔

عمران خان فون ہاتھ میں پکڑ کر گانا گاتے رہے (واسطہ ای رب دا توں جاویں وے کبوترا) لیکن جنرل باجوہ نے نمبر بلاک کردیا تھا اور عمران خان کا کبوتر جنرل باجوہ کی منڈیر تک نہ پہنچ سکا۔ عمران خان نے ہر حربہ آزمایا، ایکسٹینشن کی یقین دہانی بھی کروائی لیکن جنرل باجوہ نے پاک فوج کو سیاست سے دور کرکے ایک نئی اور مثبت روایت قائم کی۔

جنرل باجوہ کو اپنے دور میں نوازشریف، شاہد خاقان عباسی، ناصر الملک (نگراں) عمران خان اور شہبازشریف کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور معاشی بدحالی کا سلسلہ جاری رہا گوکہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پہلے عمران خان اور پھر شہبازشریف کی حکومت کو سہارا دینے کیلئے پوری کوشش کی۔

جنرل قمر جاوید باجوہ دوست ممالک سے امداد کیلئے حکومت پاکستان کی پوری طرح مدد کرتے رہے اور انہی کے دور میں افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء عمل میں آیا۔ پاکستان میں جنرل باجوہ کا دور تنازعات کی زد میں رہا، کمان سنبھالتے ہی پانامہ اور دوسرے سیاسی تنازعات کی وجہ سے جنرل باجوہ کیلئے کئی چیلنجز آئے ۔

جنرل باجوہ کے دور میں فوج پر تنقید میں اضافہ ہوا لیکن اپنے آخری وقت میں انہوں نے فوج کو تمام سیاسی تنازعات سے دور کرکے ایک نئی روایت قائم کی۔ ان کے اس اقدام پر عمران خان کی طرف سے بے پناہ تنقید بھی ہوئی لیکن فوج اپنے موقف پر قائم رہی اور عمران خان جنرل باجوہ کی شفقت سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ فیض یاب ہونے میں بھی کامیاب نہ ہوسکے۔

اب پاک فوج کی کمان جنرل عاصم منیر نے سنبھال لی ہے اور امید ہے کہ افواج پاکستان سیاست اور دیگر معاملات سے خود کو دور رکھے گی اور نئی قیادت افواج پاکستان کی عزت اور شان میں اضافے کیلئے اقدامات اٹھاکر فوج کو تنازعات سے محفوظ بنائے گی۔


مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.